کردے اور لوگ اِسی جنگ و جدال میں مشغول ہوں گے کہ اس فیصلہ کے کرنے کے لئے خدا آسمان سے قرنا میں اپنی آواز پھونکے گا وہ قرنا کیا ہے؟ وہ اُس کا نبی ہوگا جو اُس کی آواز کو پاکر اسلام اور توحید کی طرف لوگوں کو دعوت کرے گا پس اس آواز کے ساتھ خدا تمام سعیدوں کو ایک جگہ جمع کردے گا تب کوئی اسلام سے محروم نہیں رہے گا مگر وہی جس کو شقاوت ازلی نے روک رکھا ہوگا۔ پس یقیناًسمجھو کہ یہ وہی دن ہیں جو خدا کے دن کہلاتے ہیں۔ اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا تو یہ نئی بات نہیں۔ دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جس سے ٹھٹھا نہیں کیاگیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے33 ۱ یعنی بندوں پر افسوس ! کہ کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس سے انہوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔
میرے مقابل پر جو میرے مخالف مسلمان مجھے گالیاں دیتے ہیں اور مجھے کافر کہتے ہیں یہ بھی میرے لئے ایک نشان ہے کیونکہ انہیں کی کتابوں میں یہ اب تک موجود ہے کہ مہدی معہود جب ظاہر ہوگا تو اُس کو لوگ کافر کہیں گے اور اُس کو ترک کردیں گے اور قریب ہوگا کہ علمائے اسلام اُس کو قتل کردیں۔ چنانچہ ایک جگہ مجدّد الف ثانی صاحب بھی یہی لکھتے ہیں اور شیخ محی الدین ابن العربی صاحب نے بھی ایک مقام میں یہی لکھا ہے۔ سو اس میں کچھ شک نہیں کہ باوجود ہزارہا نشانوں کے جو خدا نے میرے لئے دکھلائے پھر بھی میں سخت تکذیب کانشانہ بنایا گیا ہوں اور میری کتابوں کے یہودیوں کی طرح معنے محرف مبدل کرکے اور بہت کچھ اپنی طرف سے ملاکر میرے پر صدہا اعتراض کئے گئے ہیں کہ گویا میں ایک مستقل نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اور قرآن کو چھوڑتا ہوں اور گو یا میں خدا کے نبیوں کو گالیاں نکالتا ہوں اور توہین کرتا ہوں اورگویا میں معجزات کا منکر ہوں۔ سو میری یہ تمام شکایت خدا تعالیٰ کے جناب میں ہے اور میں یقیناًجانتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے میرے حق میں فیصلہ کرے گا کیونکہ میں مظلوم ہوں۔