دشمنوں کو ہلاک کیا یا اُن کے مقابل پر مجھے ہر ایک قسم کے انعام سے مشرف کیا اور اُن کو ذلّت کی زندگی میں ڈالا یا ذلّت کے ساتھ دنیا سے اٹھا لیا۔
اورخدا نے میری تائید میں اِس قسم کے نشان بھی ظاہر کئے کہ میرے وجود سے بھی پہلے بعض صلحاء نے میرا نام لے کر میرے ظہور کی خبر دی تھی اور بعض نے میرے ظہور سے تیس۳۰ برس پہلے میرا نام لے کر اور میرے گاؤں کا نام لے کرمیرے ظہور کی خبردی۔
اورخدا نے میرے لئے ایک یہ بھی نشان ٹھہرایا کہ پہلے تمام نبیوں نے مسیح موعود کے ظہور کے لئے جس زمانہ کی خبردی تھی اور جو تاریخی طور پر مسیح موعود کے ظہور کے لئے مدت مقرر کی تھی خدا نے ٹھیک ٹھیک مجھے اُسی زمانہ میں پیدا کیا*۔
ایسا ہی اسلام کے تمام اولیاء کا اس پر اتفاق تھا کہ اس مسیح موعود کا زمانہ چودھو۱۴یں صدی سے تجاوز نہیں کرے گا۔ اور حدیث الآیاَتَُ بعدَ المئتین بھی اس پر دلالت کرتی تھی سو خدا نے چودھو۱۴یں صدی کے سر پر مجھے مامور اورمخاطب فرمایا۔
خدا نے قرآن شریف میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں مذاہب کے جنگ ہوں گے اور دریا کی لہروں کی طرح ایک مذہب دوسرے مذہب پر گرے گا تا اُس کو نابود
*حاشیہ۔ بعض ناواقف یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسیح موعود کا قرآن شریف میں کہاں ذکر ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا کی کتابوں میں مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ اُن کے ایک نام اس کا خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے سو اس نام کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح موعود کے بارہ میں پیشگوئی موجود ہے چنانچہ سُورۃ نور میں خداتعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے آخری
دنوں تک اُن کے دین کی تقویت کے لئے خلیفے پیدا کرتا رہے گا اور اُن کے ذریعہ سے خوف کے بعد امن کی صورت پیدا کردے گا۔ آخری دنوں تک خلیفوں کاپیدا ہونا اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بموجب نص صریح قرآن شریف کے اسلام کا دور دُنیاکے آخری دنوں تک ہے پس ماننا پڑا کہ اسلام میں بھی ایک خاتم الخلفاء ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ کے سلسلہ میں حضرت عیسیٰ خاتم الخلفاء تھے۔ اور یہ عجیب راز ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ حضرت موسیٰ ؑ سے بموجب قول یہود کے چود۱۴ہویں صدی میں پیدا ہوئے اسی طرح اسلام کا خاتم الخلفاء اسی مدت کے بعد مبعوث ہوا۔ منہ