لیکن یہ سب کچھ جو ظہور میں آیا یہ اس لئے ظہور میں نہیںآیا کہ اصل مقصود میری عظمت ظاہر کرناتھا بلکہ اس لئے ظہور میں آیا کہ تا خدا تعالیٰ دین اسلام کی حجت دنیا پر قائم کرے۔ میں تو خود حیران ہوں کہ میں خود کچھ چیز نہ تھا لیکن میں خدا کے فضل اور نعمت کو کیونکر ردّ کروں آخر جبکہ بڑے بڑے صدمات اسلام پر وارد ہوکر تیرھویں صدی پوری ہوئی اور اس منحوس صدی میں ہزارہا قسم کے اسلام کو زخم پہنچے اور چودھویں صدی کا آغاز شروع ہوا تو ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کی قدیم سنّت کے موافق موجودہ مفاسد کی اصلاح اورؔ دین کی تجدید کے لئے کوئی پیداہوتا۔ سو اگرچہ اس عاجز کو کیسا ہی تحقیر کی نظر سے دیکھا جائے مگر خدا نے اس امت کا خاتم الخلفاء اسی اپنے بندہ کو ٹھہرایا۔ میرے بارے میں شیخ محی الدین ابن العربی نے ایک پیشگوئی کی تھی جو میرے پر پوری ہوگئی اوروہ یہ کہ خاتم الخلفا ء جس کا دوسرا
کہ پہلے بھی کئی دفعہ خسوف کسوف ہو چکا ہے اُس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ وہ ایسے مدعی مہدویت کا پتہ د ے جس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے نشان ٹھہرایا ہو اور یہ ثبوت یقینی اور قطعی چاہیئے اور یہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ ایسے مدعی کی کوئی کتاب پیش کی جائے جس نے مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور نیز یہ لکھا ہو کہ خسوف کسوف جو رمضان میں دارقطنی کی مقرر کردہ تاریخوں کے موافق ہوا ہے وہ میری سچائی کا نشان ہے ۔ غرض صرف خسوف کسوف خواہ ہزاروں مرتبہ ہوا ہو اس سے بحث نہیں ۔ نشان کے طور پر ایک مدعی کے وقت صرف ایک دفعہ ہوا ہے اور حدیث نے ایک مدعی مہدویت کے وقت میں اپنے مضمون کا وقوع ظاہر کرکے اپنی صحت اور سچائی کو ثابت کر دیا ۔ اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب حجج الکرامہ میں اور حضرت مجدد الف ثانیصاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ احادیث صحیحہ میں لکھا ہے کہ ستارہ دُنبالہ دار یعنی ذوالسنین مہدی موعود کے ظہور کے وقت میں نمودار ہوگا چنانچہ وہ ستارہ ۱۸۸۲ئمیں نکلا اور انگریزی اخباروں نے اس کی نسبت یہ بھی بیان کیا کہ یہی وہ ستارہ ہے کہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا ۔
ایسا ہی اس زمانہ کے قریب جب کہ خدا نے مجھ کو مبعوث فرمایا ستارے اس کثرت سے ٹوٹے جن کی ان سے پہلے نظیر نہیں دیکھی گئی اور شاید یہ نومبر ۱۸۸۵ء تھا اسی طرح اور کئی آسمانی آثارظاہر ہوئے ۔ یہ خدا کے سب نشان ہیں ۔ منہ