کہ تم اس قدر عمر پاؤ گے کہ اُن کو دیکھ لوگے اور جو نشانیاں زمانہ مہدی معہود کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی تھیں جیسا کہ اُس کے زمانہ میں کسوف خسوف رمضان میں ہونا اور طاعون کاملک میں پھیلنا* یہ تمام شہادتیں میرے لئے ظہور میں آگئیں اور اس وقت تک چودھویں صدی کا بھی میں نے چہارم حصہ پالیا۔ یہ اس قدر دلائل اور شواہد ہیں کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ہزار جزو میں بھی سما نہیں سکتے۔ حاشیہ ۔ یہ دؔ ار قطنی کی حدیث ہے کہ مہدی موعود کی یہ بھی نشانی ہے کہ خدا اُس کے لئے اُس کے زمانہ میں یہ نشان ظاہر کرے گا کہ چاند اپنی مقررہ راتوں میں سے (جو اس کے خسوف کے لئے خدا نے راتیں مقرر کر رکھی ہیں یعنی تیرھو۱۳یں چودھو۱۴یں پندرھو۱۵یں ) پہلی رات میں گرہن پذیر ہوگا اور سورج اپنے مقررہ دنوں میں سے (جو اس کے کسوف کے لئے خدا نے دن مقرر کر رکھے ہیں یعنی ۲۷و۲۸و ۲۹ ) درمیانی دن میں کسوف پذیر ہوگا اور یہ دونوں خسوف کسوف رمضان میں ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ مہدی کے وقت میں یہ دو مرتبہ واقع ہوں گے ۔ چنانچہ یہ دونوں دومرتبہ میرے زمانہ میں رمضان میں واقع ہوگئے ۔ ایک مرتبہ ہمارے اس ملک میں دوسری مرتبہ امریکہ میں ۔ اور ہمیں اس بات سے بحث نہیں کہ ان تاریخوں میں کسوف خسوف رمضان کے مہینہ میں ابتدائے دنیا سے آج تک کتنی مرتبہ واقع ہوا ہے ۔ ہمارا مدعا صرف اِس قدر ہے کہ جب سینسل انسان دنیا میں آئی ہے نشان کے طور پر یہ خسوف کسوف صرف میرے زمانہ میں میرے لئے واقع ہوا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کو یہ اتفاق نصیب نہیں ہواکہ ایک طرف تو اس نے مہدی موعودہونے کا دعویٰ کیا ہو اور دوسری طرف اس کے دعوے کے بعد رمضان کے مہینہ میں مقررکردہ تاریخوں میں خسوف کسوف بھی واقع ہوگیا ہو اور اس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے ایک نشان ٹھہرایا ہو ۔ اور دارقطنی کی حدیث میں یہ تو کہیں نہیں ہے کہ پہلے کبھی کسوف خسوف نہیں ہوا ۔ ہاں یہ تصریح سے الفاظ موجودہیں کہ نشان کے طور پر یہ پہلے کبھی کسوف خسوف نہیں ہوا کیونکہ لَمْ تَکُوْنَا کا لفظ مؤنث کے صیغہ کے ساتھ دار قطنی میں ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ایسا نشان کبھی ظہور میں نہیں آیا ۔ اور اگر یہ مطلب ہوتاکہ کسوف خسوف پہلے کبھی ظہور میں نہیں آیا تو لفظ لم یکونا ۔ مذکر کے صیغہ سے چاہیئے تھا نہ کہ لم تکونا کہ جو مؤنث کا صیغہ ہے جس سے صرؔ یح معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد آیتین ہے یعنی دو نشان کیونکہ یہ مؤنث کا صیغہ ہے ۔ پس جو شخص یہ خیال کرتاہے