نام مسیح موعود ہے صینی الاصل ہوگا۔ یعنی اس کے خاندان کی اصل جڑھ چین ہوگی اور نیز وہ توام پیداہوگا ایک لڑکی اُس کے ساتھ ہوگی اور یہ وضع حمل کے وقت پہلے پیدا ہوگی اوروہ بعد میں پیدا ہوگا۔ پس اسی طرح میری پیدائش ہوئی اور میں توام کے طور پر جمعہ کے دن صبح کے وقت پیدا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ پیشگوئی شیخ محی الدین ابن العربی کا اپنا کشف ہو یا کوئی حدیث اس کوپہنچی ہو۔ بہرحال وہ پیشگوئی میرے پیدا ہونے کے ساتھ پوری ہوگئی اور اب تک اسلا م میں میرے سوا کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا کہ وہ صینی الاصل بھی ہوا ا ور توام بھی پیدا ہوا ہو اور پھر اُس نے خاتم الخلفاء ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہو*۔
*
حاشیہ۔ شیخ محی الدین ابن العربی صاحب کی اس پیشگوئی سے خداکا وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا اور میری کتاب براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا بظاہر ایک تناقض رکھتا ہے کیونکہ اس کلام میں مجھے فارسی الاصل ٹھہرایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے خذوا التوحید التوحید یا ابناء الفارس ژ(ترجمہ) توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔ اور پھر اسی براہین احمدیہ میں دُوسری جگہ فرماتا ہے ان الذین صدّوا عن سبیل اللّٰہ ردّ علیہم رجل من فارس شکراللّٰہ سعیہ۔ یعنی جو لوگ اسلام کے مخالف ہیں اور خدا کی راہ سے روکتے ہیں ایک فارسی نے (یعنی اس عاجز نے) اُن کا رد لکھا ہے خدا اس کی سعی کا شکر گذار ہے۔ اور پھر تیسری جگہ اسی براہین احمدیہ میں فرمایا ہے لو کان الایمان معلّقًا بالثریا لنالہ رجل من فارس یعنی اگر ایمان زمین پر سے اُٹھ جاتا اور ثریا پر چلا جاتا تب بھی ایک انسان فارس میں سے (یعنی یہ عاجز) اُس کو وہاں پہنچ کر لے لیتا۔ اس تناقض کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے شائع ہونے کے بعد بہت سے مسلمان چین میں جاکر آباد ہوئے تھے اور ان کی تاثیر وعظ سے کئی کروڑ چینی مسلمان ہوگیا تھا اسی وجہ سے اب بھی چین میں چھ کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں سو ممکن ہے کہ بعض فارسی بھی وہاں جاکر آباد ہوگئے ہوں اور پھر اس وجہ سے چینی کہلانا ایک لازمی امر تھا جیسا کہ بہت سے عرب جو ابتدا میں ہندوستان میں آئے تھے اب ہندی کہلاتے ہیں چنانچہ تمام سادات اور قریش اسی قسم کے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ بظاہر سمجھا جاتا ہے ہمارا خاندان مغلیہ خاندان مشہور ہے جو بلاشبہ صینی الاصل ہے لیکن جو کچھ خدا نے ظاہر فرمایا وہ بلاشبہ صحیح ہے۔ من
فارس کے لفظ پر خدا تعالیٰ نے الف لام لگادیا ہے جو موجودہ نحو کے قاعدہ کے رُو سے صرف فارس چاہئے تھا۔ خدا کا کلام انسانی نحو سے ہر ایک جگہ موافق نہیں ہوتا ایسے الفاظ اور فقرات اور ضمائر جو انسانی نحو سے مخالف ہیں قرآن شریف میں بھی پائے جاتے ہیں۔ منہ