رؔ تی وید میں سے ہمیں دکھلادے۔
نادان آریہ قرآن شریف پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نام3 ۱ رکھا ہے یعنی ایسا مکر کرنے والا جس میں کوئی شر نہیں مگر اس جگہ تو وید کا پرمیشر شرالماکرین ٹھہرتا ہے کیونکہ جھوٹے بہانوں سے مکتی یافتوں کو بار بار آواگون میں ڈالتا ہے اور پھر جونوں کی تقسیم میں انصاف کا پابند نہیں رہتا اور دائمی نجات نہ دینے کے بارے میں ایک جھوٹا عذر پیش کرتا ہے اور اپنی ناحق کی شیخی دکھلانے کے لئے اصل واقعہ کو چھپاتا ہے اور سچائی کی پابندی سے یہ نہیں کہتا کہ دراصل میں دائمی مکتی دینے پر قادر ہی نہیں اوریہ جھوٹا بہانہ پیش کرتا ہے کہ محدود اعمال کا پاداش صرف محدود چاہیئے کیونکہ مکر بموجب تشریح قرآن شریف کے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ نیک مکر اور بدمکر لیکن وید کا پرمیشر اپنی مذکورہ بالا کارروائی کی رُو سے بد مکر کو استعمال کرتا ہے کیونکہ اپنی کمزوری چھپاکر لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے کہ محدود عمل کا ثمرہ کیونکر غیر محدود دیا جائے حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ وہ نجات دینے پر قدرت ہی نہیں رکھتا اور پھر یہ بھی سراسر دھوکہ دہی ہے کہ اعمال محدود ہیں کیونکہ راستباز لوگ کسی محدود زمانہ تک خدا کو یاد کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہمیشہ کی اطاعت کے لئے دل میں عہد رکھتے ہیں اور یہ تو اُن کے اختیار میں نہیں کہ موت آجائے۔ موت کا بھیجنا تو خدا کا کام ہے اُن کا اِس میں کیا قصور ؟
پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ آریوں کے اصول کی رُو سے اُن کے پرمیشر کا نام مالک ٹھہر نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کہ بغیر کسی کے حق واجب کے اُس کو بطور اکرام انعام کچھ دے سکے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی مال کامالک ہوتا ہے وہ اختیار رکھتا ہے کہ جس قدر اپنے پاس سے چاہے کسی کو دے دے۔ مگر پرمیشر کی نسبت آریوں کا یہ اصول ہے کہ نہ وہ گناہ بخش سکتا ہے