اس زمانہ میں جس کا ذکر اُوپر ہوچکا ہے خدا نے مجھے اصلاح کرنے کے لئے مامور کرکے بھیجا اور میرے ہاتھ پر وہ نشان دکھلائے کہ اگر اُن پر ایسے لوگوں کو اطلاع ہو جن کی طبیعتیں تعصب سے پاک اور دلوں میں خدا کا خوف ہے اور عقل سلیم سے کام لینے والے ہیں تو وہ ان نشانوں سے اسلام کی حقیقت بخوبی شناخت کرلیں۔ وہ نشان ایک دو نہیں بلکہ ہزارہا نشان ہیں جن میں سے بعض ہم اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں لکھ چکے ہیں جب سن ہجری کی تیرھویں صدی ختم ہوچکی تو خدا نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے اپنی طرف سے مامور کرکے بھیجا۔ اور آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر نبی گذر چکے ہیں سب کے نام میرے نام رکھ دئیے اور سب سے آخری نام میرا عیسیٰ موعود اور احمد اور محمد معہود رکھا۔اور دونوں ناموں کے ساتھ ساتھ بار بار مجھے مخاطب کیا۔ ان دونوں ناموں کو دوسرے لفظوں میں مسیح اور مہدی کرکے بیان کیا گیا۔ اور جو معجزات مجھے دئیے گئے بعض اُن میں سے وہ پیشگوئیاں ہیں جو بڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ اُن کو بیان کرسکے اور بعض دعائیں ہیں جو قبول ہوکر اُن سے اطلاع دی گئی اور بعض بددعائیں ہیں جن کے ساتھ شریر دشمن ہلاک کئے گئے اور بعض دعائیں از قسم شفاعت ہیں جن کامرتبہ دُعا سے بڑھ کر ہے اور بعض مباہلات ہیں جن کا انجام یہ ہوا کہ خدا نے دشمنوں کو ہلاک اور ذلیل کیا اور بعض صلحائے زمانہ کی وہ شہادتیں ہیں جنہوں نے خدا سے الہامؔ پاکر میری سچائی کی گواہی دی۔ اور بعض ایسے صلحائے اسلام کی شہادتیں ہیں جو میرے ظہور سے پہلے فوت ہوچکے تھے جنہوں نے میرا نام لے کر اور میرے گاؤں کانام لے کر گواہی دی تھی کہ وہی مسیح موعود ہے جو جلد آنے والا ہے اور بعض نے ایسے وقت میں میرے ظہور کی خبردی تھی جب کہ میں ابھی پیدا بھی نہیں ہواتھا اور بعض نے میرے ظہور کے بارے میں ایسے وقت میں خبردی تھی جب کہ میری عمر شاید دس۱۰ یا بارہ۱۲ برس کی ہوگی اور اپنے بعض مریدوں کو بتلادیا تھا