بعض اہل علم صالح اور رشید طبع بھی ہیں اوروہ تھوڑے ہیں۔
اس زمانہ میں اسلام کے اکثر امراء کا حال سب سے بدتر ہے وہ گویا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور فسق و فجور کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ دین سے وہ بالکل بے خبر اور تقویٰ سے خالی اور تکبر اورغرور سے بھرے ہوتے ہیں اگر ایک غریب ان کو السّلام علیکم کہے تو اُس کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ بلکہ غریب کے منہ سے اس کلمہ کو ایک گستاخی کا کلمہ اور بیباکی کی حرکت خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ پہلے زمانہ کے اسلام کے بڑے بڑے بادشاہ السلام علیکم میں کوئی اپنی کسر شان نہیں سمجھتے تھے مگر یہ لوگ تو بادشاہ بھی نہیں ہیں۔ پھر بھی بیجا تکبر نے اُن کی نظر میں ایسا پیارا کلمہ جو السلام علیکم ہے جو سلامت رہنے کے لئے ایک دُعا ہے حقیر کرکے دکھایا ہے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ زمانہ کس قدر بدل گیا ہے کہ ہر ایک شعار اسلام کا تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ تو اس زمانہ کے اکثر مسلمانوں کا اندرونی حال ہے اور جو بیرونی مفاسد پھیل گئے ہیں اُن کا تو شمار کرنا مشکل ہے۔ اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر مسلمانوں میں سے ایک آدمی بھی مرتد ہو جاتا تھا تو گویا قیامت برپا ہو جاتی تھی مگر اب اس ملک میں مرتد مسلمان جو عیسائی ہوگئے یا جنہوں نے اور مذہب اختیار کرلیا ہے وہ دو لاکھ سے بھی زیادہ ہیں بلکہ مسلمانوں کی ادنیٰ اور اعلیٰ قوموں میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جس میں سے ایک گروہ عیسائی نہ ہوگیا ہو اور وہی لوگ جو ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بغیر درود پڑھنے کےؔ نہیں لیتے تھے اب مرتد ہونے کے بعد جناب ممدوح کو گندی گالیاں دیتے اور گندی تصانیف شائع کرتے ہیں اور جو کتابیں اسلام کے ردّ میں لکھی گئیں اگروہ ایک جگہ اکٹھی کی جائیں تو کئی پہاڑوں کے موافق اُن کی ضخامت ہوتی ہے۔ پس اس سے زیادہ کونسی ماتم کی جگہ ہے؟ کہ نہ اسلام کی اندرونی حالت دل کو خوش کرسکتی ہے اور نہ اُس کے بیرونی دشمن ایسے منصف مزاج نظر آتے ہیں کہ جو خدا سے ڈرکر اپنی شرارتوں سے باز آجائیں۔