ماسوا اس کے عوا م الناس میں جس قدر بد رسمیں پھیلی ہوئی ہیں جو مخلوق پرستی تک پہنچ گئی ہیں اُن کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض پیر پرستی میں اس قدر حد سے بڑھ گئے ہیں جو اپنے پیروں کو معبود قرار دے لیا ہے۔ بعض قبروں کی نسبت اس قدر غلوّ رکھتے ہیں کہ قریب ہے کہ ان قبروں کو ہی اپنا خدا تصور کرلیں بلکہ کئی لوگ قبروں پر سجدہ کرتے دیکھے گئے ہیں۔
اور وہ لوگ جو پیر اور سجادہ نشین کہلاتے ہیں اکثر لوگوں میں ان میں سے بدعملی حد سے بڑھ گئی ہے اور وہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ اپنی طرف بلاتے ہیں اور اکثر اُن میں بڑے چالاک اور دین فروش ہوتے ہیں اور طرح طرح کے مکر اور فریب کرکے دنیا کماتے ہیں اور ان فریبوں کو اپنی کرامات قرار دیتے ہیں اور جو کچھ اپنے مریدوں کو سکھاتے ہیں وہ ایسے امور ہیں جو کتاب اللہ اور سنّتِ نبویہ سے بالکل مخالف ہیں اور اکثر اُن کے ایسے جاہل ہیں جو کتاب اللہ کے معنی بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور ان کے ورد و وظائف عجیب قسم کے ہیں کہ نہ اُن کا کتاب اللہ سے پتہ ملتا ہے اور نہ سنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور مال جمع کرنے اور اپنی دنیا کے فراہم کرنے میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔ اور اگر اُن کی کوئی غلطی اُن پر ظاہر کی جائے تو سخت کینہ دل میں پیدا کرتے ہیں اگر ممکن ہو تو ایسے آدمی کو ہلاک کرنے تک بھی فرق نہیں کرتے۔ اور بعض فقراء صالح اور رشید بھی ہیں مگر وہ تھوڑے ہیں۔
اکثر علماء کے کام ملونی سے خالی نہیں ہیں وہ علوم نبویہ کے وارث کہلاتے ہیں مگر اُن پاک علوم کے خلاف کام کرتے ہیں۔ رُوحانیت اور اخلاص اور صدق و وفا سے کچھ بھی اُن کو خبر نہیں۔ اکثر علماء کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ اسلام کے راہزن ہیں نہ رؔ استبازی کے طریق پر آپ قدم مارتے ہیں اور نہ کسی اپنے پیرو کو مارنے دیتے ہیں اور وہ خدا کے سلسلہ کے درندوں کی طرح دشمن ہیں۔ تقویٰ طہارت سے ایسے الگ ہیں جیسے اندھیری رات روشنی سے الگ ہوتی ہے۔ اُن کی مشیخت او رانانیت اُن کو اجازت نہیں دیتی کہ حق بات کو قبول کرلیں اور