ہوگیا ہے اور اندرونی طور پر تو کئی بوٹے خشک ہو کر جڑھ سے اُکھڑ گئے ہیں۔ یعنی جو لوگ اسلام کے مدعی تھے محض اُن کی زبان پر اسلام رہ گیا ہے۔ اور حقیقت اسلام کی اُن کے دلوں میں سے مفقود ہوچکی ہے اور شکوک و شبہات سے اکثر سینے بھر گئے ہیں بعض لوگ تو مسلمان کہلا کر خدا کے وجود کے بھی قائل نہیں اور بعض نے نیچریت کا جامہ پہن لیا ہے یعنی طبعیوں اور فلسفیوں کا لباس پہن کر خدا تعالیٰ کی خارق عادت قدرتوں سے منکر ہو بیٹھے ہیں اور بے قیدی اور آزادی کے طور پر زندگی بسر کرتے ہیں اور نماز روزہ اور حج زکوٰۃ پر ٹھٹھا مارتے اور بہشت دوزخ پر بھی ہنسی کرتے ہیں اور ملائک اور جنّات کے قطعاً منکر ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ وہ اس فکر میں پڑ گئے ہیں کہ کسی طرح اسلام میں کچھ تغیر تبدّل کرکے اپنی طرف سے ایک نیا اسلام بنایا جاوے جس میں تکالیف شرعیہ سے بکلی آزادی ہو۔ اور وضو اور غسل بھی نہ کرنا پڑے اور شراب وغیرہ محرمات کا بھی فتویٰ دیا جائے اور اسلام سے پردہ کی رسم بھی اٹھائی جائے اور آہستہ آہستہ دین اسلام میں فسق و فجور کا دروازہ کھولا جائے اور نمازوں کا پڑھنا اور عبادت کرنا اورخدا تعالیٰ کے راہ میں مجاہدات بجا لانا یہ تمام احکام منسوخ کردئیے جائیں۔ چنانچہ میرے خیال میں اس ملک میں کئی لاکھ ایسے آدمی ہوں گے کہ جو اس قسم کے ہوں گے جن میں سے بعض تو سیّد احمد خان کے پیرو اور بعض اس سے بھی کئی قدم آگے بڑھے ہوئے ہیں اور درحقیقت یہ لوگ اسلام کا چولہ اپنے بدن پر سے اُتار چکے ہیں اور آہستہ آہستہ اسلام سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں مگر چونکہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے اس لئے ابھی تک مسلمان ہی کہلاتے ہیں مگر کھلے کھلے طور پر تحریر اور تقریر سے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور ایک فرقہ ایسا بھی نکلا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ماثورہ پر ٹھٹھا مارتا اور ہنسی کرتا ہے اور تمام احادیث کو ردّیات کا ذخیرہ سمجھتا ہے اور آنحضرت صلیؔ اللہ علیہ وسلم کو اتنی عزت بھی نہیں دیتا کہ وہ فہم قرآن میں دوسروں سے بڑھ کر ہیں اور یہ فرقہ بھی پنجاب میں کسی قدر پھیل گیا ہے۔