بیان کرنے سے رہ نہیں سکتے جن کے تجربہ او ر آزمائش کرنے والے ہم خود ہیں بلکہ ہم یہ بات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ اب تمام دنیا میں صرف ایک اسلام ہی ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے کہ وہ تازہ نشانوں اور معجزات سے اس پوشیدہ خدا کا چہرہ دکھاتا ہے جس سے دوسری قومیں بے خبررہ کر مخلوق پرستی میں گرفتار ہوگئی ہیں اور یا یہ کہ اُس کے وجود سے ہی منکر ہو بیٹھے ہیں۔ پس بلاشبہ اس زمانہ میں خدائے غیب الغیب کا چہرہ دکھلانے والا صرف یہی دین ہے نہ اور کوئی دین۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!!
چونکہ تربیت اور پرورش کے لئے یہ قاعدہ مقرر ہے کہ جس باغ کو مثلاً مالک اُس کا ہمیشہ تازہ بتازہ رکھنا چاہتا ہے وہ اُس کی مناسب پرورش اور غورو پرداخت کے تعہّد کو نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ حاجت کے وقت اُس کی آبپاشی کرتا رہتاہے اور اگر کوئی پھلدار بوٹا ضائع ہوجائے تو اس کی جگہ اور بوٹا لگا دیتا ہے پس یہی قاعدہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ہے کہ وہ اسلام کے باغ کوجس کو ہمیشہ سرسبز اور پھلدار رکھنا اُس کا مقصود ہے اپنے خاص تعہّد سے تازہ بتازہ اور سرسبزکرتا رہتا ہے اور جب وہ باغ آبپاشی کامحتاج ہو جاتا ہے تو اُس کو پانی دیتا ہے اور جب پہلے بوٹے نکمّے اور بوسیدہ ہو جاتے ہیں تو نئے بوٹے لگاتا ہے یعنی ایک نئی قوم پیدا کرتا ہے جو پھل دیوے اور پانی دینے کا سرچشمہ ایک ایسے شخص کو بنا دیتاہے جو خدا کی تجلیات کی بارش سے وحی الٰہی کا زندہ اور تازہ پانی پاتا ہے۔ اور تم ہر روز خود دیکھتے اور مشاہدہ کرتے ہوکہ کیاکوئی باغ بغیر تعہّداور آبپاشی کے رہ سکتا ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب کچھ بوٹے خشک ہو جاتے ہیں تو اُن کی جگہ اور لگائے جاتے ہیں اور اگر باغبان مر جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا آتا ہے۔ سو اسلام کے باغ کے لئے بھی یہی قاعدہ ہے۔
اور چونکہ ہمارا زمانہ وہ زمانہ ہے جس میں اسلام کے باغ کو بڑے بڑے صدمات پہنچےؔ ہیں اور کیا اندرونی طور پر اور کیا بیرونی طور پر اسلام انواع و اقسام کے حوادث سے آفت رسیدہ