ملیں گے سو ہمارے زمانہ میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔ ایک ؔ اور پیشگوئی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت ہے اور وہ یہ ہے کہ 33 ۱؂ یعنی آخری زمانہ میں دریاؤں میں سے بہت سی نہریں جاری کی جائیں گی چنانچہ یہ پیشگوئی بھی ہمارے زمانہ میں ظہور میں آگئی۔ اِسی طرح قرآن شریف میں ایک یہ پیشگوئی ہے 3۲؂ یعنی وہ آخری زمانہ ہوگا جب کہ پہاڑ چلائے جائیں گے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہاڑ اُڑائے جائیں گے جیسا کہ اس زمانہ میں توپوں کے ساتھ پہاڑوں کو اُڑا کر اُن میں راستے بنائے گئے ہیں۔ سو یہ تمام پیشگوئیاں قرآن شریف میں موجود ہیں۔ مگر اس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ عِشار اُن اُونٹنیوں کو کہتے ہیں جو حمل دار ہوں اور اگرچہ حدیث میں قِلَاص کا لفظ ہے مگر قرآن شریف میں اس لئے عِشار کا لفظ استعمال کیا گیا تا یہ پیشگوئی قیامت کی طرف منسوب نہ کی جائے اور حمل کے قرینہ سے یہ دُنیا کا واقعہ سمجھا جائے کیونکہ قیامت کو حمل نہیں ہوں گے۔ پھر جس قدر ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات قرآن شریف سے لکھے ہیں انہیں پر حصر نہیں ہے بلکہ احادیث صحیحہ اور اخبار اسلامیہ کی رُو سے اس تواتر سے بارش کی طرح معجزات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت ملتا ہے کہ جس سے بڑھ کر کسی نبی یا رسول کے معجزات مروی نہیں ہیں۔ بعض پیشگوئیاں ایسی ہیں کہ جن کتابوں میں وہ لکھی گئی تھیں وہ کتابیں اُن پیشگوئیوں کے پوری ہونے سے صدہا برس پہلے عموماً تمام اسلامی دنیا میں شائع ہوچکی تھیں اگر ہم اس جگہ اُن معجزات کی تفصیل لکھیں تو وہ تمام معجزات بیس۲۰ جزو میں بھی سما نہیں سکتے اور تفصیل کی حاجت نہیں کیونکہ وہ کتابیں نہ صرف مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں بلکہ اسی پرانے زمانہ میں بعض اتفاقات حسنہ سے وہ کتابیں عیسائیوں کو مل گئی تھیں جو اب تک یورپ کے پرانے کتب خانوں میں موجود ہیں تا وہ بھی ان معجزات کے گواہ ہو جاویں۔ پھر ماسوا اس کے ہم اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن تاثیرات اور برکاؔ ت کے