رہی ہے کہ ایک سال تک مکہ اورمدینہ میں ریل جاری کردی جائے پس اُس وقت جب ریل جاری ہو جائے گی یہ نظارہ ہر ایک مومن کے لئے ایمان کو زیادؔ ہ کرنے والا ہوگا۔ اور جس وقت ہزارہا اونٹ بیکار ہوکر بجائے اُن کے ریل گاڑیاں مکّہ سے مدینہ تک جائیں گی اور دمشق اور دوسری اطراف شام وغیرہ کے حج کرنے والے کئی لاکھ انسان ریل گاڑیوں میں سوار ہوکر مکّہ معظمہ میں پہنچیں گے تب کوئی *** آدمی ہوگا کہ اس نظارہ کو دیکھ کر اپنے سچے دل سے اس بات کی تصدیق نہیں کرے گا کہ وہ پیشگوئی جو قرآن شریف اور حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے آج پوری ہو گئی۔ یاد رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے یہ ایک عظیم الشان نشان ہے کہ آپ نے تیرہ ۱۳۰۰سو برس پہلے ایک نئی سواری کی خبر دی ہے اور اس خبر کو قرآن شریف اور حدیث صحیح دونوں مل کر پیش کرتے ہیں اگر قرآن شریف خدا کا کلام نہ ہوتا تو انسانی طاقت میں یہ بات ہرگز داخل نہ تھی کہ ایسی پیشگوئی کی جاتی کہ جس چیز کا وجود ہی ابھی دنیا میں نہ تھا اُس کے ظہور کا حال بتایا جاتا جب کہ خدا کو منظور تھا کہ اس پیشگوئی کو ظہور میں لاوے تب اُس نے ایک انسان کے دل میں یہ خیال ڈال دیا کہ وہ ایسی سواری ایجاد کرے جو آگ کے ذریعہ سے ہزاروں کوسوں تک پہنچا دے۔ ایسا ہی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت اور بھی پیشگوئیاں ہیں اُن میں سے ایک یہ پیشگوئی بھی ہے 3 ۱؂ یعنی آخری زمانہ وہ ہوگا جب کہ کتابوں اور صحیفوں کی اشاعت بہت ہوگی گویا اس سے پہلے کبھی ایسی اشاعت نہیں ہوئی تھی۔ یہ اُن کلوں کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ سے آج کل کتابیں چھپتی ہیں اور پھر ریل گاڑی کے ذریعہ سے ہزاروں کوسوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ایسا ہی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت یہ پیشگوئی ہے کہ 33۲؂ یعنی آخری زمانہ میں ایک یہ واقعہ ہوگا کہ بعض نفوس بعض سے ملائے جاویں گے یعنی ملاقاتوں کے لئے آسانیاں نکل آئیں گی اور لوگ ہزاروں کوسوں سے آئیں گے اور ایک دوسرے سے