پیشگوئی ہے کہ آخری زمانہ میں اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُن دنوں میں ایک نئی سواری پیدا ہوجائے گی۔ چنانچہ قرآن شریف کی پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں 3 ۱ *یعنی وہ آخری زمانہ جب اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور بے کار ہونا تبھی ہوتا ہے کہ جب اُن پر سوار ہونے کی حاجت نہ ہو اور اس سے صریح طور پر نکلتاہے کہ اونٹنیوں کی جگہ کوئی اور سواری پیدا ہوجائے گی۔ اس آیت کی تشریح کتاب صحیح مسلم میں موجود ہے اس میں یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہے وَیُتْرَکُ الْقِلاََصُ فَلا یُسْعٰی علیھا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں ترک کی جائیں گی اور کسی منزل تک جلدی پہنچنے کے لئے اور دوڑ کر جانے کے لئے وہ کام نہیں آئیں گی یعنی کوئی ایسی سواری پیدا ہو جائے گی کہ بہ نسبت اونٹنیوں کے بہت جلد منزل مقصود تک پہنچائے گی۔ غرض یُسْعٰی کا لفظ جو حدیث میں ہے اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ دوڑنے کے کام میں اونٹ سے بہتر کوئی اور سواری نکل آوے گی۔ یہ عجیب بات ہے کہ صحیح مسلم میں جس جگہ مسیح موعود کے زمانہ کا ذکر ہے اُس جگہ یہ حدیث اونٹنیوں کے ترک کرنے کے بارہ میں ہے اور یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تیرہ ۱۳۰۰سو برس بعد پوری ہوئی چنانچہ ان دنوں میں یہ کوشش بھی ہو
* حاشیہ۔ قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت ایک یہ بھی پیشگوئی تھی کہ جب آخری زمانہ میں دوسرے آثار قیامت ظاہر ہوں گے اسی زمانہ میں ایک خاص وضع کا کسوف خسوف بھی ہوگا۔ جیسا کہ اس آیت میں بھی اشارہ ہے 3 ۲ یعنی سورج اور چاند جمع کئے جائیں گے۔ یہ آیت سورۃ قیامت کی ابتدائی سطروں میں ہے اور اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام سورۃ قیامت رکھا گیاہے اور یہ کسوف خسوف آثار قیامت میں سے ٹھہرایا گیا۔ جیسا کہ مسیح خاتم الخلفاء کو بھی آثار قیامت سے ٹھہرایا گیا اور اِس آیت سے پہلے یہ آیت ہے3۳ یعنی جس وقت پتھرا جائیں گی آنکھیں۔یعنی وہ ایسے دن ہوں گے جو دنیا پر ہولناک عذاب نازل ہوں گے۔ ایک عذاب ختم نہیں ہوگا جو دوسرا موجود ہوجائے گا۔ پھر بعدکی آیت میں فرمایا 3۴ یعنی اس دن انسان کہے گا کہ اب ہم ان متواتر عذابوں سے کہاں بھاگ جائیں اور بھاگنا غیرممکن ہوگا یعنی وہ دن انسان کے لئے بڑی مصیبت کے دن ہوں گے اور ان کا ہولناک نظارہ بے حواس کردے گا۔ منہ