ہی قرآن شریف بہت سی پیشگوئیوں سے بھرا پڑا ہے جیساکہ روم اور ایران کی سلطنت کی نسبت ایک زبردست پیشگوئی قرآن شریف میں موجود ہے اور یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے جب کہ مجوسی سلطنت نے ایک لڑائی میں رُومی سلطنت پر فتح پائی تھی اور کچھ زمین اُن کے ملک کی اپنے قبضہ میں کرلی تھی تب مشرکین مکہ نے فارسیوں کی فتح اپنے لئے ایک نیک فال سمجھی تھی اور اس سے یہ سمجھا تھا کہ چونکہ فارسی سلطنت مخلوق پرستی میں ہمارے شریک ہے ایسا ہی ہم بھی اس نبی کا استیصال کریں گے جس کی شریعت اہل کتاب سے مشابہت رکھتی ہے تب خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ پیشگوئی نازل فرمائی کہ آخر کار رُومی سلطنت کی فتح ہوگی اورچونکہ روم کی فتح کی نسبت یہ پیشگوئی ہے اس لئے اس سورت کا نام سورۃ الرو م رکھا گیا ہے اورچونکہ عرب کے مشرکوں نے مجوسیوں کی سلطنت کی فتح کو اپنی فتح کے لئے ایک نشان سمجھ لیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں یہ بھی فرما دیا کہ جس روز پھر روم کی فتح ہوگی اس روز مسلمان بھی مشرکوں پر فتحیاب ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اس بارہ میں قرآن شریف کی آیت یہ ہے۔ 3۔ 3 3۔33 ۱؂ ۔(ترجمہ) میں خدا ہوں جو سب سے بہتر جانتا ہوں۔ رُومی سلطنت بہت قریب، زمین میں مغلوب ہوگئی ہے اوروہ لوگ پھر نو۹ سال تک تین سال کے بعد مجوسی سلطنت پر غالب ہو جائیں گے اُس ؔ دن مومنوں کے لئے بھی ایک خوشی کا دن ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور تین سال کے بعد نو۹ سال کے اندر پھر رُومی سلطنت ایرانی سلطنت پر غالب آگئی اور اسی دن مسلمانوں نے بھی مشرکوں پر فتح پائی کیونکہ وہ دن بدر کی لڑائی کا دن تھا جس میں اہل اسلام کو فتح ہوئی تھی۔ ماسوا اس کے قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بعض جدید حالات کی نسبت ایسی خبریں دی گئی ہیں جو ہمارے اس زمانہ میں بہت صفائی سے پوری ہوگئی ہیں جیسا کہ اس میں ایک یہ