پر جاری ہے کہ جو خدا کی طرف سے رسول آتے ہیں اُن کوخدا ایسے امورغیبیہ پراطلاع دیتا ہے جن کاعلم انسانی طاقتوں سے برتر ہوتا ہے پس جب اُن کی پیشگوئیاں بکثرت پوری ہو جاتی ہیں جو دُنیا کی حالات کے متعلق ہیں تو وہی پیشگوئیاں اُن خبروں کے لئے معیار ہو جاتی ہیں جو برگزیدہ لوگ مبدء اور معاد اور اپنی رسالت کی نسبت دیتے ہیں لیکن افسوس کہ موجودہ وید اِس طریق سے بالکل تہی دست اور محروم ہے۔ اور اُس کے ساتھ کوئی تائیداور نُصرتِ حق پائی نہیں جاتی اگر اُس نے مبدء اور معاد کی نسبت کچھ خبریں دی ہیں تو کیونکر سمجھا جائے کہ وہ سچی خبریں ہیں کیونکہ مبدء اور معاد کی نسبت کوئی قطعی فیصلہ توعقل کر نہیں سکتی اور اس راہ میں اس قدر عقل حیران اور حواس باختہ ہے کہ آج تک محض عقل کے ذریعہ سے خدا کی شناخت بھی نہ ہوسکی اور ہزاروں انسان جو بڑے بڑے عقلمند کہلاتے تھے اور بڑے بڑے علوم عقلیہ کے موجد تھے آخر کار وہ دہریہ ہوکر مرگئے اور اُن کو یہ بھی پتہ نہ لگا کہ خدا موجود ہے تو پھر مبدء اور معاد کی نسبت کیونکر صرف عقل کوئی صحیح اور قطعی فیصلہ کرسکتی ہے پس بلاشبہ مبدء اور معاد کی خبریں خواہ وہ زید دے اورخواہ بکر بیان کرے کسی دوسرے کامل ذریعہ سے تصدیق کی محتاج ہیں سو وہ ذریعہ خدا کے پاک نبیوں کی وہ پیشگوئیاں ہیں جو دُنیا میں آفتاب کی طرح ظاہر ہوکر اپنا صدق دکھلا دیتی ہیں۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامکہ معظمہ میں اس گمنامی کے زمانہ میں اسلام کے عروج اور شوکت اور ترقی کی خبر دینا جب کہ آپ مکہ معظّمہ کی گلیوں اور کوچوں میں محض تنہا پھرتے تھے اور کوئی آثار کامیابی کے نمایاں نہؔ تھے محض تنہا پھرتے تھے اور آپ کا ایسے زمانہ میں اپنے عالمگیر اقبال کی پیشگوئی کرناجب کہ یہ رائے ظاہر کرنا بھی ہنسی کے لائق سمجھا جاتاتھا کہ ایسا بیکس اور گمنام شخص بھی بادشاہی کے درجہ تک پہنچے گا اور اُس کا آسمانی تاج و تخت زمین پر بھی اپنا زبردست اور فوق العادت کرشمہ دکھائے گا۔ بلاشبہ ایسی خبریں انسانی طاقت سے باہر ہیں اور پھر وہ خبریں ایسی صفائی سے پوری ہوگئیں کہ جیسے دن چڑھ جاتا ہے پس اُن کا پورا ہونا صاف طور پر یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ بلاشبہ ایک صادق کے لئے خدا کی گواہی ہے ایسا