کو ؔ ردّی سے ردّی جون میں ڈالنا اور بیجا پکش پات اور طرفداری کو استعمال میں لانا کیا ایسا مکروہ فریب اور مکر اُس بے عیب ذات کی طرف منسوب ہوسکتا ہے جو بے انتہا فیضوں کا سرچشمہ ہے۔ جس حالت میں درحقیقت پرمیشر دائمی نجات دینے پر قادر ہی نہیں تو اس فضول عذر پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ محدود اعمال کی غیرمحدود جزا نہیں ہوسکتی۔ واقعی بات کو چھپانا اور محض اپنی پردہ پوشی کے طور پر اور اور عذرات پیش کرنا کیا وید میں یہی صفات پرمیشرکے لکھے ہیں۔ واقعی بات تو یہ تھی کہ بقول آریہ وید کے اصول کی رُو سے پرمیشر کسی روح کو دائمی نجات دے ہی نہیں سکتا کیونکہ جب کہ تمام ارواح غیر مخلوق ہیں اور بموجب اصول وید کے یہ بھی ضروری کہ سلسلہ دنیا کا ہمیشہ جاری رہے تو اس صورت میں اگر پرمیشر روحوں کو دائمی نجات دیتا تواس کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا کہ ہرایک رُوح جو دائمی نجات پالیتی وہ ہمیشہ کے لئے پرمیشر کے ہاتھ سے نکل جاتی اور رفتہ رفتہ آخر وہ زمانہ آجاتا کہ ایک روح بھی پرمیشر کے ہاتھ میں نہ رہتی اور پھر مجبوراً پرمیشر خالی ہاتھ بیٹھ جاتا اور جیسا کہ وید کی رُو سے مانا گیا ہے آئندہ دُنیا کا سلسلہ چل نہ سکتا کیونکہ پرمیشر کسی رُوح کے پیدا کرنے پر تو قادر نہ تھا تا نئی روحوں سے دُنیا کا سلسلہ چلاتا اور جب کہ پہلی رُوحیں دائمی نجات پاکر آواگون کے سلسلہ سے ہمیشہ کے لئے مَخلصی پا جاتیں تو اِس صورت میں پرمیشر اُس شخص کی مانند ہوتا جس کا دیوالہ نکل جاتا ہے۔ ناچار اس مجبوری سے اس کو آواگون کا سلسلہ ختم کرنا پڑتا اور ایسا کرنا وید کی رُو سے اس کے مقرر کردہ اصول کے مخالف تھا پس درحقیقت محدود مکتی کا یہ راز تھا مگر پرمیشر نے دنیا داروں کے رنگ میں جو اپنا پول ظاہر کرنا نہیں چاہتے اصل حقیقت کو چھپایا۔ بھلا کوئی ایسی شُرتی پیش توکرو جس میں پرمیشر نے یہ کہا ہو کہ میں دائمی نجات دینے پر قادر تو تھا لیکن میں نے نہ چاہا کہ محدود اعمال کاغیر محدود بدلہ دوں۔ ہم ایسے کسی آریہ کو ہزار روپیہ نقد دینے کو تیار ہیں کہ اپنے اصول کو ملحوظ رکھ کر پھر ایسی