کے بعد ایک میعادی مکتی ہوگی اور انہیں کو ملے گی جو وید کی تعلیم کے موافق عمل کرتے ہیں۔ یہ اخبار غیبیہ نہیں کہلا سکتے بلکہ ہر ایک مفتری ایسی باتیں کہہ سکتا ہے۔ اس لئے خدا کے سچے رسول مبدء و معاد کے اخبار کے ساتھ دنیا کے متعلق بہت سے اخبار غیبیہ بتلاتے ہیں تا اُن کی نبوت کے ذریعہ مبدء ومعاد کی خبریں بھی ثابت ہوں۔ یہ کس قدر فریب ہے کہ صرف مبدء و معاد کی خبردیں اور دنیا کے متعلق کوئی خبر غیب ظاہر نہ کریں اسی بنا پر وید پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگروہ اخبار غیبیہ کے بیان کرنے پر قادر تھا تو اپنی اس قدرت کا یہ نمونہ اس نے دنیا کے اخبار کے متعلق کیوں نہ دکھلایا اگر وہ خدا کا کلام تھا تو چاہئے تھا کہ دنیا کے متعلق بھی اخبار غیب بتلاتا تااس کا صدق آزمایا جاتا صرف مبدء اور معاد کی نسبت غیب کی خبر دینا تو ایسا ہے جیساکہ کوئی سمندر کے عمیق اور گرداب کی جگہ کی طرف اشارہ کرکے کہے کہ میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ اس کے نیچے ایک خزانہ ہے تم اپنی کوشش سے نکال لو ! سو یہ پیشگوئی تو ایک تمسخر ہے اور سچائی کا اس میں نشان نہیں۔ قرآن شریف صرف مبدء اورمعاد کی نسبت خبریں نہیں دیتا بلکہ وہ غیب کی خبریں بھی اس میں ہیں جو ہر ایک زمانہ کے لوگ اُن کی سچائی کے گواہ ہیں۔ ہرایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ کتاب اللہ کے لئے مبدء اور معاد کی خبریں دینا اِس لئے ضروری ہیں کہ تا انسان معلوم کرے کہ پہلے خدا کے فضل نے کیونکر اُس کو خلعت وجود بخشا اور پھر بعد تکمیل نفس اس پر کیا کیا فضل ہوگا اور کتاب اللہ کے لئے دنیا کے امور غیبیہ سے اطلاع دینا اس لئے ضروری ہے کہ تا جو مبدء اورمعاد کی ؔ نسبت خبریں دی گئی ہیں اُن پر یقین آجائے اس لئے ہر ایک سچا رسول دنیا کے امور غیبیہ کی نسبت بھی خبریں دیتا آیا ہے مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ آنجناب کی اخبار غیبیہ صرف اُسی زمانہ تک ختم نہیں ہوئیں بلکہ ہمارے زمانہ تک بھی اُن کا سلسلہ جاری ہے۔ انسان کی طبیعت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ بغیر تجربہ کے کسی امر کا قائل نہیں ہوسکتا اور نہ قائل ہونا چاہیئے تا کسی جھوٹے کی پیروی کرکے ہلاک ہونا نہ پڑے۔ پس اسی وجہ سے عادت اللہ قدیم سے اس طرح