کامل طو ر پر عطا کئے جاتے ہیں اور جبکہ خدا نے ظاہری چیزوں کے معلوم کرنے کے لئے ظاہری حواس عطا فرمائے ہیں اورعلوم معقولہ کے دریافت کرنے کے لئے جو امور باطنیہ ہیں حواس خمسہ باطنی عطا کئے ہیں پس اس صورت میں صاف طور پر سمجھ آسکتا ہے کہ ایسے امور جو عقل سے بالاتر ہیں اُن کے دریافت کے لئے بھی خدا نے کوئی ذریعہ رکھا ہوگا سو وہ ذریعہ وحی اورکشف ہے اور جیسا کہ انسانی فطرت کے لئے یہ دائمی عطیہ ہے کہ بجز ان لوگوں کے جو بہرے اور اندھے یا دیوانے ہوں ہر ایک انسان کو حواس خمسہ ظاہری اور باطنی اب بھی حسب تفاوت مراتب عطا ہوتے ہیں یہ نہیں کہ صرف پہلے عطا ہوتے تھے اور اب نہیں۔ ایسا ہی خدا کا قانون قدرت رُوحانی حواس کے لئے بھی اسی کے مطابق ہے کہ اب بھی وحی اور کشف کے حواس حسب مراتب ملتے ہیں او ر جو اعلیٰ درجہ کی استعداد رکھتے ہیں وہ ان روحانی حواس میں سب سے بڑھ جاتے ہیں اور جو کتاب انسانوں کو یہ تعلیم دے کہ وہ روحانی حواس اب نہیں ملتے
بلکہ پہلے کسی زمانہ میں مل چکے وہ کتاب خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ نہ صرف قانون قدرت کے برخلاف بلکہ مشاہدہ اور تجربہ کے بھی برخلاف ہے۔ اور روحانی معلّموں کی یہی نشانی ہے کہ وہ صرف ان اخبار غیبیہ کو نہیں بتلاتے ہیں کہ جو دنیا کی ابتدا میں ظاہر ہوچکے ہیں اور نہ محض ان اخبار غیبیہ کی خبر دیتے ہیں جو اس عالم کے انقطاع کے بعدظاہرہوں گے بلکہ اُن اخبار غیبیہ سے بھی مطلع فرماتے ہیں جو وقتاً فوقتاً اس دُنیا میں ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ جو امور غیبیہ ہماری نظر کے سامنے نہیں اورجن کو ہم آزماکر اُن کا صدق و کذب ظاہر نہیں کرسکتے وہؔ کسی سچے نبی اور رسول کی علامت نہیں ہوسکتے کیونکہ دُنیا سے پہلے اور دُنیا کے مابعد کی خبریں دینا ایک ایسی سہل اور آسان بات ہے جس کو ایک جھوٹا او ر مفتری بھی بیان کرسکتا ہے کیونکہ ایسی خبریں آزمائش اور تجربہ کی حد سے باہر ہیں مثلاً فقط یہی غیب کی خبریں دینا کہ پہلے صرف مولی گاجر کی طرح بہت سے انسان زمین میں سے پیدا ہوگئے تھے اور نیز یہ خبر کہ پرمیشر ہمیشہ آریہ ورت میں ہی اپنی کتاب نازل کرتا رہا ہے اور ویدک سنسکرت ہی خدا کا کلام ہے ا ور نیز یہ کہ مرنے