چُھری سے دہریت کے بھوت کو ذبح کرتا ہے اور ناستک مت کی ہیکل کو توڑتا ہے۔
میںؔ جو ان تھا اور اب بوڑھا ہوگیا مگر میں اپنے ابتدائی زمانہ سے ہی اس بات کا گواہ ہوں کہ وہ خدا جو ہمیشہ پوشیدہ چلاآیا ہے وہ اسلام کی پیروی سے اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اگر کوئی قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اور کتاب اللہ کے منشاء کے موافق اپنی اصلاح کی طرف مشغول ہو او راپنی زندگی نہ دنیا داروں کے رنگ میں بلکہ خادم دین کے طور پر بناوے اور اپنے تئیں خدا کی راہ میں وقف کردے اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھے اور اپنی خودنمائی اور تکبر اور عُجب سے پاک ہو اور خدا کے جلال اور عظمت کا ظہور چاہے نہ یہ کہ اپنا ظہور چاہے اور اس راہ میں خاک میں مل جائے تو آخری نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ مکالمات الٰہیہ عربی فصیح بلیغ میں اس سے شروع ہو جاتے ہیں* اور وہ کلام لذیذ اور باشوکت ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے حدیث النفس نہیں ہوتا۔ حدیث النفس کا کلام آہستہ ہوتا ہے جیسا کہ ایک مخنث یا بیمار بولتا ہے مگر خدا کا کلام پرشوکت ہوتا ہے اور اکثر عربی زبان میں ہوتا ہے بلکہ اکثر آیاتِ قرآنی میں ہوتا ہے اور جو کچھ ہمارے تجربہ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ اوّل دل پر اس کی سخت ضرب محسوس ہوتی
* اس راہ میں یعنی الہام کے بارے میں ہمارا تجربہ ہے کہ تھوڑی سی غنودگی ہوکر اور بعض اوقات بغیر غنودگی کے خدا کا کلام ٹکڑہ ٹکڑہ ہوکر زبان پر جاری ہوتا ہے جب ایک ٹکڑہ ختم ہوچکتا ہے تو حالت غنودگی جاتی رہتی ہے پھر ملہم کے کسی سوال سے یا خود بخود خداتعالیٰ کی طرف سے دوسرا ٹکڑہ الہام ہوتا ہے اور وہ بھی اسی طرح کہ تھوڑی غنودگی وارد ہوکر زبان پر جاری ہوجاتاہے اسی طرح بسا اوقات ایک ہی وقت میں تسبیح کے دانوں کی طرح نہایت بلیغ فصیح لذیذ فقرے غنودگی کی حالت میں زبان پر جاری ہوتے جاتے ہیں اور ہر ایک فقرہ کے بعد غنودگی دُور ہوجاتی ہے اور وہ فقرے یا تو قرآن شریف کی بعض آیات ہوتی ہیں یا اُن کے مشابہ ہوتے ہیں۔ اور اکثر علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اور ان میں ایک شوکت ہوتی ہے اور دل پر اثر کرتے ہیں اور ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت دل نور میں غرق ہوتا ہے۔ گویا خدا اُس میں نازل ہے۔ اور دراصل اس کو الہام نہیں کہنا چاہئے بلکہ یہ خدا کا کلام ہے۔ منہ