ہے اور اس ضرب کے ساتھ ایک گونج پیدا ہوتی ہے اور پھر پھول کی طرح وہ شگفتہ ہو جاتا ہے اور اس سے پاک اور لذیذ کلام نکلتا ہے اور وہ کلام اکثر امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک شوکت اور طاقت اور تاثیر رکھتا ہے اور ایک آہنی میخ کی طرح دل میں دھنس جاتا ہے اور خدا کی خوشبو اُس سے آتی ہے یہ تمام لوازم اس لئے اُس کے ساتھ لگائے گئے ہیں کہ بعض ناپاک طبع انسان شیطانی الہام بھی پاتے ہیں یا حدیث النفس کے فریب میں آجاتے ہیں۔ اس لئے خدا نے اپنے کلام کے ساتھ چمکتے ہوئے انوار رکھے ہیں تا دونوں میں فرق ظاہر ہو۔
اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ خدا کے کلام کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ زبردست معجزات پر مشتمل ہوتا ہے اور وہ معجزات کیا باعتبار کثرت اور کیا باعتبار کیفیت اپنے اندر مابہ الامتیاز رکھتے ہیں یعنی کثرؔ ت مقدار اور صفائی کیفیت کی وجہ سے کوئی دوسرا اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور جس طرح خدا کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوسکتا اُسی طرح خدا کے کلام کے ساتھ کوئی دوسرا کلام شریک نہیں اور جس پر وہ کلام نازل ہوتا ہے اُس کو ایک خاص نصرت اور حمایتِ الٰہی ملتی ہے اور اس میں اور اس کے غیر میں ایک فرق رکھا جاتاہے* جیسا کہ خدا میں اور اس کے غیر میں فرق ہے۔
*حاشیہ۔ جس شخص پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے اور سچ مچ وہ مکالمہ الٰہیہ سے شرف پاتا ہے اس کو اس مکالمہ کے ساتھ اور لوازم نصرت اور مدد بھی عطا کئے جاتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ کہ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا بلکہ وہ ہر ایک پر خود غالب ہوتا ہے۔ اور گو کتنی ہی دیر درمیان واقع ہوجائے مگر انجام کار فتح اسی کی ہوتی ہے اور اُس کے دشمن خائب و خاسر رہ جاتے ہیں وہ باوجود ہزاروں دشمنوں کے پھر بھی سب پر غالب ہوجاتا ہے اور دشمنوں کے سارے منصوبے اس کے مقابل پر کالعدم ہوجاتے ہیں اور اُن کی بددعائیں انہیں پر پڑ جاتی ہیں اور منجملہ ان لوازم خاصہ کے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے زمانہ میں اس کا ظہور سب مدعیوں سے پہلے ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تب ابھی جھوٹے نبیوں کا نام ونشان نہ تھا۔ اور جب اُن کا نور زمین پر خوب روشن ہوگیا تب مسیلمہ کذاب اور اَسود عَنسی اور ابن صیاد وغیرہ جھوٹے نبی ظاہر ہوئے تا خدا دکھاوے کہ کس طرح وہ سچے کی حمایت کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچے نبی کے ظہور کے وقت بارش کے موسم کی طرح آسمان پر انتشار روحانیت ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کو سچی خوابیں شروع ہوجاتی ہیں۔ الہام بھی ہونے لگتے ہیں اسی دھوکہ سے بعض جھوٹے نبی اپنی حد سے بڑھ کر نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ منہ