نہیں ہوئی بلکہ قدم بقدم اسلام کے ساتھ چلی آتی ہے۔ ہم ایسی تازہ بتازہ برکتیں اُس نبی کے دائمی فیض سے پاتے ہیں کہ گویا اس زمانہ میں بھی وہ نبی ہم میں موجود ہے اور اِس وقت بھی اُس کے فیوض ہماری ایسی ہی رہنمائی کرتے ہیں کہ جیسا اس پہلے زمانہ میں کرتے تھے۔ اُس کے ذریعہ سے ہمیں وہ پانی ملاہے جس کی ضرورت ہرایک پاک فطرت محسوس کر رہی ہے وہ پانی بڑی سرعت سے ہمارے ایمانی درخت کو نشو ونمادے رہا ہے اور ان مشکلات سے ہم نے رہائی پالی ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں اور اگر کسی کو ہم میں سے ابتدائی مرحلہ میں ۔۔۔ مشکلات معلوم بھی ہوں مگر وہ ایسی نہیں ہیں جو آگے قدم بڑھانے سے مغلوب اور رفع نہ ہوسکیں۔ اسلام میں آگے قدم بڑھانے کا وسیع میدان ہے نہ یہ کہ آریوں کی طرح تمام دین اس پرختم ہے کہ ایک بدی کاارتکاب کرکے پھر اسی زندگی میں اس بدی کے تدارک کا راہ مسدود ہے* جب تک کہ بے شمار جونیں نہ بھگتی جائیں اور نہ عیسائیوں کی طرح آخری دوڑ صرف مسیح کے کفارہ تک ہے وبس۔ ایسے تنگ خیالات ہرگز عزت اور قدر کے لائق نہیں کہ انسانی قویٰ کو یا تو سراسر بیکار ٹھہراتے ہیں اور یا اُن کو معطل رہنے کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر نتیجہ کچھ نہیں۔ میں نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں بہت سے ایسے نشان لکھے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا جس کی شناخت اور محبت ہماری عین نجات ہے وہ اسلام کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے اور اسلام ہی ایک ایسامذہب ہے جو اپنے زندہ نشانوں کی * جب کہ آریوں کے نزدیک دنیا سزا کا گھر ہے اور کسی قدر جزا کا بھی یعنی نیکی کے بدلہ کا گھر۔ تو ایک آریہ مثلاََ جو اپنے گناہ کی شامت سے کتا بنایا گیا ہے چاہئے تھا کہ وہ سزا بھگت کر فی الفور اسی دنیا میں بجائے کتے کے آدمی بنایا جاتا تا جو نوں کا تماشا لوگ بچشم خود دیکھ لیتے اورتناسخ کا قطعی ثبوت مل جاتا ۔ کس قدر یہ فضول بات ہے کہ سزا تو اسی دنیا میں دی گئی تھی اور نیز ایک جون کے عوض دوسری جون بھی اسی دنیا میں ملتی تھی ۔ پھر ناحق روح کو نکال کر کہیں کاکہیں لے گئے اس بیجا کارروائی سے فائدہ کیا ہوا ۔ آخر سزا کے لئے روح کو پھر دنیا میں واپس آنا پڑا کیا یہی وید وِدّیا ہے ؟منہ