امر ہے کہ انسان خدا کی راہ میں پوری وفاداری دکھلا نہیں سکتا اور نہ گناہ سے بازآسکتا ہے جب تک کہ پورے یقین کے ساتھ خدا کی ہستی اور اُس کی عظمت اور جلال اُس پر ظاہر نہ ہو اور بجز اُس کے کوئی کفارہ انسان کو گناہ سے روک نہیں سکتا۔ پس گناہ سے محفوظ رہنے اور صدق اور وفاداری اورمحبت میں ترقی کرنے کے لئے جس امرکو تلاش کرنا چاہیئے وہ محض اسلام میں موجود ہے نہ کسی اور مذہب میں۔ اور اس سے میری مراد وہ نشان ہیں جو تازہ بتازہ اسلام میں ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا کا وجود جو اس زمانہ میں ایک حل طلب مُعمّاکی طرح ہو رہا ہے اور اُس کے چمکتے ہوئے جوہر پر دہریت کے خیالات نے ہزارہا گردوغبارڈال دئیے ہیں اُس پاک جوہر کی چمک ظاہر کرنے کے لئے اُسی کے فوق العادت نشان ذریعہ ہوسکتے ہیں اور نوع انسان کی نجات اسی چمک پر موقوف ہے نہ کسی اور بناوٹی منصوبہ پر۔ جس صلیب پر عیسائیوں کا بھروسہ ہے وہ گنہ سے تو نہیں چھڑا سکتی لیکن خدا کی راہ میں نیک کاموں کے بجا لانے سے چھڑا دیا اور سُست کردیا ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا کی جگہ دی گئی ہے اور دُنیا کے لئے سب کچھ کیاجاتا ہے لیکن خدا کے را ہ میں ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور ان کے نزدیک جو کچھ ہے یہی کفارہ ہے اور اس سے آگے خداکی راہ کی تلاش کی ضرورت نہیں اوروہ اپنے خیال میں ایسی منزل پر پہنچ گئے ہیں جو آخری منزل ہے پس کوئی ڈاکو کسی کو ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتا جیسا کہ اس کفارہ نے ان کو پہنچایا ہے۔ اس پوشیدہ طاقت سے وہ لوگ بالکل بے خبر ہیں جس کے قبضہء قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ اگر چاہے توایک دم میں ہزار مسیح ابنؔ مریم بلکہ اس سے بہتر پیدا کردے چنانچہ اُس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کرکے ایسا ہی کیا مگر یہ اندھی دُنیا اُس کو شناخت نہ کرسکی۔ وہ ایک نور تھا جو دنیا میں آیا اور تمام نوروں پر غالب آگیا اُس کے نور نے ہزاروں دلوں کو منور کیا اور اُسی کی برکت کا یہ راز ہے کہ رُوحانی مدد اسلام سے منقطع