جس سے اپنی ہستی کی خبر دینے میں ایک چوہا بھی سبقت لے جاتا ہے اور عقل سلیم ایسے خدا کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتی جو اپنا وجود آپ ظاہر نہیں کرسکتا۔ اسلام میں معمولی مذاہب سے زیادہ کیا بات ہے؟ اگرچہ یہ زمانہ مذہبی جنگوں کا زمانہ ہے اور ہر ایک شخص خواہ تہذیب سے اور خواہ غیر تہذیب سے یہی کوشش کر رہاہے کہ اپنے مذہب کی حقانیت دوسروں پر ظاہر کرے لیکن یہ عجیب خدا کی قدرت ہے کہ باوجودیکہ ہمارے اس زمانہ میں ہزارہا مذاہب پھیل رہے ہیں مگر بجز اسلام کے ہر ایک مذہب صرف اپنی خشک منطق سے خدا کو ثابت کرنا چاہتا ہے یہ نہیں کہ خدا اس مذہب کے پیروؤں پر اپنا چہرہ آپ ظاہر کرے۔ پس دوسرے مذاہب گو یا اپنے خدا پر احسان کر رہے ہیں کہ اُس کے گم گشتہ وجود کا محض اپنے زورِ بازو سے پتہ لگانا چاہتے ہیں مگر طالبِ حق ایسے پرمیشر یا خدا سے تسلّی نہیں پاسکتا جس پر اس قدر کمزوری اور ناتوانی غالب ہے کہ ایک بے جان چیز کی طرح اپنے ظہور اور بروز میں دوسرے کے ہاتھ کا محتاج ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک خدا اپنے وجود کا آپ پتہ نہ دے اوراپنی انا الموجود کی آواز سے اپنی ہستی کو آپ ظاہر نہ کرے تب تک انسان کا صرف اپنا یکطرفہ خیال ۔۔۔ کہ خدا موجود ہے کب کسی دل کو پورے یقین تک پہنچا سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ تمام اعمال حسنہ کی بنیاد یقین ہے اور یقین ہی کے پاک چشمہ سے نیک اعمال نشو و نما پاتے ہیں۔ خدا کا وجود ایسا عمیق در عمیق اور نہاں در نہاں ہے کہ بجز خدا کے ہی ہاتھ کے جلوؔ ہ نما نہیں ہوسکتا اور خدا کی سچی اطاعت اور صدق اور خالص محبت اور وفاداری کا سبق وہی کتاب دے سکتی ہے جس کے آئینہ میں سے خدا خود اپنا چہرہ نمودار کرتاہے یہ قدرتی