ظاہر نہیں ہوتے تب اُس کی تمام امیدیں پاش پاش ہو جاتی ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ ترقی کرے تنزّل کی طرف جھکتا ہے یہاں تک کہ ایک دن دہریوں کے رنگ میں ہو جاتا ہے اس سے ثابت ہے کہ مبارک وہی کتاب ہے کہ جو اپنے تازہ نشانوں سے اُمید کو دن بدن بڑھاتی ہے اورخدا کے ملنے کے آثار ظاہر کرتی ہے۔ انسان کی تمام کوششیں امید پرمبنی ہیں جس زمین کی نسبت یہ امید ہی نہیں کہ اس سے پانی نکلے گا اس کے کھودنے کے لئے انسان اپنا وقت ضائع نہیں کرسکتا۔ اگر تھوڑی کوشش کا نتیجہ انسان دیکھ لے تو بہت بھی کرسکتا ہے لیکن اگرکچھ بھی نتیجہ ظاہر نہ ہوتو رفتہ رفتہ ایمانی مدد منقطع ہو جاتی ہے آخر خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھک جاتا ہے۔ دنیا کے علوم میں انسان خواہ کتنی ہی ترقی کرے اورخواہ کیسا ہی وہ طبعی اور ہیئت کا ماہربن جائے اورخواہ دنیا کے تکمیل اسباب اور ایجادوں میں کتنی ہی فوقیت حاصل کرے مگر پھر بھی یہ سفلی کمالات اُس کو خدا تک نہیں پہنچا سکتے بلکہ اور بھی دل سخت کردیتے ہیں اور ایک ناحق کی مشیخت اور تکبرکا موجب ہو جاتے ہیں۔ تمام راستبازوں کے تجربہ سے یہ فیصلہ شدہ بات ہے کہ خدا کو بجز خدا کی ہی تجلی اور توجہ کے پا نہیں سکتے۔ اور اگر کوئی ایسی الہامی کتاب ہے کہ اپنی زندہ طاقت سے ہمارے لئے کوئی دروازہ نہیں کھولتی اور صرف ہمارے ہی دماغی خیالات کے ہمیں حوالہ کرتی ہے تو اس کاہم پر کیااحسان ہے اور کونسی نئی معرفت ہم کو عطا کرتی ہے کیااِس قدر معرفت ہم خود حاصل نہیں کرسکتے۔ وہ کیسا پرمیشر ہے جو خود آریوں کے ہی دماغی خیالات کا ایک نتیجہ ہے اور اُس نے اپنے وجود کو اُن پر ظاہر نہیں کیا بلکہ وہ اس کو خود ظاہر کررہے ہیں ایسا پرمیشر تو ایک چوہے کے وجود سے بھی گرا ہوا ہے۔ چوہا بھی رات کے وقت اپنے پھرنے چلنے اور اپنی تیز حرکت یا کسی چیز کو کاٹنے سے خبر دے دیتا ہے کہؔ میں موجود ہوں مگر وید کا پرمیشر تو اس قدر بھی خبر نہیں دے سکتا کچھ معلوم نہیں کہ اب وہ اس زمانہ میں زندہ بھی ہے یا نہیں۔ پس ایسے پرمیشر کو قبول کرنا جائے عار ہے