پر اپنے کلام سے اطلاع دیتاہے اور ہرایک جواُس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کردیتا ہے کہ وہ اُس بندہ کے ساتھ ہے جو اس کے کلام کی پیروی کرتا ہے جیسا کہ اُس نے لیکھرام پر ظاہر کیا اور اُس کی موت ایسی حالت میں ہوئی کہ وہ خوب سمجھتا تھا کہ خدا نے اُس کی موت سے اسلام کی سچائی پر مہر لگادی۔ غرض اس طرح پر خدا اپنے زندہ تصرفات سے قرآن شریف کی پیروی کرنے والے کو کھینچتا کھینچتا قرب کے بلند مینار تک پہنچا دیتا ہے۔ جو لوگ ہمیں وید کی طرف بلاتے ہیں اُن کی ایسی مثال ہے کہ جیسا کہ اندھا سو جاکھے کو کہے کہ میرے پیچھے چل۔ وہ دائمی راحت اور سرور جس کافطرتاً انسان طالب ہے اور جس کے بغیر وہ جہنمی زندگی میں مبتلا ہے وہ کیونکر انسان کو حاصل ہوسکتا ہے جب تک اُس کو اپنے ذاتی مشاہدہ سے یہ بھی خبر نہیں کہ خدا موجود بھی ہے اور کیونکر ایسی کتابوں سے جو محض قصوں کے رنگ میں ہیں وہ شیریں پھل مل سکتا ہے جو حقیقی معرفت کے نام سے موسوم ہے۔ اور یہ بھی ایک یقینی اور واقعی بات ہے کہ خدا کی راہ میں کوشش کرنے کے لئے امید کا پایاجانا بھی ضروری ہے جو شخص ایک بند کوٹھے میں یہ خیال کرکے کہ اس میں اُس کا ایک عزیز ضرور مخفی ہے آواز دیتا ہے اور آواز پر آواز مارتا ہے کہ اے عزیز میں حاضر ہوں تو باہر نکل! اور مجھ سے ملاقات کر اور اُس کو کوئی جواب نہیں ملتا تب وہ خیال کرتا ہے کہ شاید وہ سوتا ہے اور اُس کے دروازہ پر صبر کرکے بیٹھتا ہے یہاں تک کہ جو سونے کا وقت اندازہ کیا جاتا ہے وہ بھی گذر جاتا ہے بلکہ اس کوٹھے میں اس بات کے کچھ بھی آثار ظاہر نہیں ہوتے کہ اس میں کوئی زندہ موجود ہے تب اُس شخص کی امید آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے اور جب اندازہ اور تخمینہ سے وقت گذر جاتا ہے تب امید بکلّی منقطع ہو جاتی ہے اور پھر وہ شخص اس دروازہ پر بیٹھنا لاحاصل جانتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور ایک عمر گذارنے کے بعدبھی اس طرف سے کوئی آواز نہیں آتی اور زندہ خدا کے کوئی آثار اُس پر