اُنؔ کے سر پر تھاپ کرمکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے مگر اب سوچنے کا مقام ہے کہ اسی ذرّہ سے گنہ کے عوض میں ایک تو انسان بنایا جاتا ہے اور دُوسرا کتے کی جون میں ڈالا جاتا ہے اور تیسرے کو گھوڑا بناتے ہیں۔ اور اسی گنہ کے عوض میں کوئی گائے بن جاتا ہے اور کوئی بکری اور کوئی مرغی اور کوئی نجاست کا کیڑا اور کوئی مرد اور کوئی عورت۔ پس یہ پرمیشر کے نیاؤ یعنی انصاف کا نمونہ ہے کہ گناہ تو صرف ایک ذرہ کی مقدار تھا اِسی گنہ کے عوض میں ایک تو وید کے رشی پیدا ہوئے جن کے دِلوں پر خدا نے الہام کا پرکاش کیا اور پھر اسی گناہ کے عوض میں بعض کتے اور سؤر اور بندر بنائے گئے۔ کیا یہی انصاف ہے یہی وید کا فلسفہ ہے اور یہی وید مقدس کی وِدّیا ہے کوئی صاحب ہمیں جواب دیں۔ اور میعادی مکتی یعنی نجات پر یہ دلیل لاتے ہیں کہ محدود افعال کا ثمرہ غیر محدود نہیں ہوسکتا گویا پرمیشر تو دائمی نجات دینے پر قادر تھا مگر کیا کرے اعمال محدود ہیں دیکھو یہ کیسا مکر ہے کہ اس بات کو پرمیشر چھپاتا ہے کہ اس میں خود ہی یہ طاقت نہیں کہ دائمی نجات دے سکے۔ دِل میں کچھ اور زبان پر کچھ اور عجیب تر یہ کہ آریہ صاحبا ن اِس بات کے قائل ہیں کہ چند روزہ نیکی اور عبادت کے عوض میں کئی ارب تک پرمیشر مکتی خانہ میں رکھ سکتا ہے۔ پس وہ اپنے اس قول سے ملزم ہوسکتے ہیں کیونکہ جس پرمیشر نے یہ گوارا کیا کہ تھوڑی مدّت کے عوض میں اس قدر مدّت پاداش عمل کی رکھی تواگر وہ دائمی نجات عطا کر دیتا تو کونسا الزام اس پر وارد ہوتا تھا جس سے وہ بچ گیا۔ انسانی گورنمنٹ بھی کسی کو پنشن دے کر اس بہانہ سے ضبط نہیں کرسکتی کہ خدمت کے ایّام سے پنشن کے ایّام زیادہ ہوگئے ہیں۔ اور پھر مکتی دینے کے وقت ایک گنہ باقی رکھ لینا اور آخر اسی گناہ کو مکتی یافتوں کے ذمہ لگاکر مکتی خانہ سے باہر نکالنا اور پھر بعضوں کی رعایت کرنا اور بعض