سے آخر کار اپنے تئیں ظاہر کرتاہے اوروہ قادر جس کی قدرتوں کو غیر قومیں نہیں جانتیں قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا خود دکھا دیتاہے اور عالم ملکوت کا اُس کو سیر کراتا ہے اور اپنے اَنَا الْمَوجُود ہونے کی آواز سے آپ اپنی ہستی کی اُس کو خبر دیتا ہے مگر وید میں یہ ہنر نہیں ہے ہرگز نہیں ہے اور وید اُس بوسیدہ گٹھری کی مانند ہے جس کا مالک مر جائے اور یاجس کی نسبت پتہ نہ لگے کہ یہ کس کی گٹھری ہے۔ جس پر میشر کی طرف وید بلاتا ہے اُس کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ وید اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کرتاکہ اُس کا پرمیشر موجود بھی ہے اور وید کی گمراہی کنندہ تعلیم نے اس بات میں بھی رخنہ ڈال دیا ہے کہ مصنوعات سے صانع کا پتہ لگایا جائے کیونکہ اس کی تعلیم کی رُو سے ارواح اور پرمانو یعنی ذرّات سب قدیم اور غیر مخلوق ہیں۔ پس غیر مخلوق کے ذریعہ سے صانع کا کیونکر پتہ لگے ایسا ہی وید کلام الٰہی کا دروازہ بند کرتا ہے اور خدا کے تازہ نشانوں کامنکر ہے اور وید کی رُو سے پرمیشر اپنے خاص بندوں کی تائید کے لئے کوئی ایسانشان ظاہر نہیں کرسکتا کہ جو معمولی انسانوں کے علم اور تجربہ سے بڑھ کر ہو پس اگر وید کی نسبت بہت ہی حسن ظن کیاجائے تواس قدر کہیں گے کہ وہ صرف معمولی سمجھ کے انسانوں کی طرح خدا کے وجود کا اقرار کرتا ہے اورخدا کی ہستی پر کوئی یقینی دلیل پیش نہیں کرتا۔ غرض وید وہ معرفت عطا نہیں کرسکتا جو تازہ طور پرخدا کی طرف سے آتی ہے اور انسان کوزمین سے اٹھاکر آسمان تک پہنچا دیتی ہے مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور اُن سب کا جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی رُوحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کے دل کومنور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلاکرخدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑؔ ہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اورعلوم غیب عطا فرماتا ہے اور دُعا قبول کرنے