وہ ناپاک جذبات کہ جو مرگی کی طرح باربار پڑتے ہیں اور پرہیز گاری کے ہوش و حواس کو کھو دیتے ہیں وہ صرف اپنے ہی خودتر اشیدہ پرمیشر کے تصوّر سے دور ہو سکتے ہیں یا صرف اپنے ہی تجویز کردہ خیالات سے دب سکتے ہیں اور یا کسی ایسے کفارہ سے رُک سکتے ہیں جس کا دُکھ اپنے نفس کو چُھوا بھی نہیں ؟ ہرگز نہیں یہ بات معمولی نہیں بلکہ سب باتوں سے بڑھ کر عقلمند کے نزدیک غور کرنے کے لائق یہی بات ہے کہ وہ تباہی جو اس بیباکی اور بے تعلقی کی وجہ سے پیش آنے والی ہے جس کی اصلی جڑھ گناہ اور معصیت ہے اُس سے کیونکر محفوظ رہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان یقینی لذّات کو محض ظنّی خیالات سے چھوڑ نہیں سکتا۔ ہاں ایک یقین دوسرے یقینی امر سے دست بردار کراسکتا ہے مثلا ایک بَن کے متعلق ایک یقین ہے کہ اس جگہ سے کئی ہرن ہم بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور ہم اس یقین کی تحریک پر قدم اُٹھانے کے لئے مستعد ہیں مگر جب یہ دوسرا یقین ہو جائے گا کہ وہاں پچاس شیرببر بھی موجود ہیں اور ہزارہا خونخوار اژدہا بھی ہیں جو منہ کھولے بیٹھے ہیں تب ہم اس ارادہ سے دستکش ہو جائیں گے اسی طرح بغیر اس درجہ یقین کے گناہ بھی دور نہیں ہوسکتا۔ لوہا لوہے سے ہی ٹوٹتا ہے۔ خدا کی عظمت اور ہیبت کا وہ یقین چاہئے جو غفلت کے پردوں کو پاش پاش کردے اور بدن پر ایک لرزہ ڈال دے اور موت کو قریب کرکے دکھلادے اور ایساخوف دل پر غالب کرے جس سے تمام تا ر و پود نفسِ امّارہ کے ٹوٹ جائیں اور انسان ایک غیبی ہاتھ سے خدا کی طرف کھینچا جائے اور اُس کا دل اس یقین سے بھر جائے کہ درحقیقت خدا موجود ہے جو بے باک مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ پس ایک حقیقی پاکیزگی کا طالب ایسی کتاب کو کیاکرے جس کے ذریعہ سے یہ ضرورت رفع نہ ہوسکے؟
اِسؔ لئے میں ہر ایک پر یہ بات ظاہر کرتاہوں کہ وہ کتاب جو ان ضرورتوں کو پوراکرتی ہے وہ قرآن شریف ہے اُس کے ذریعہ سے خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور دُنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے اور وہ خدا جو نہایت نہاں در نہاں ہے اُس کی پیروی