اپنے اِس فرض کو ادا نہ کرے جو اس کا اصلی فرض ہے اور دوسرے بیہودہ دعووں سے اپنی خوبی ثابت کرنی چاہے تو اس کی یہی مثال ہے کہ ایک شخص مثلاً طبیب حاذق ہونے کا دعویٰ کرے اور جب کوئی بیمار اس کے سامنے پیش کیاجائے کہ اس کو اچھا کرکے دکھلاؤ تووہ یہ جواب دے کہ میں اس کو اچھا تو نہیں کرسکتا لیکن میں کشتی کرنا خوب جانتا ہوں یا یہ کہے کہ علم ہیئت اور فلسفہ میں مجھے بہت دخل ہے ظاہر ہے کہ ایسا آدمی مسخرہ کہلائے گا اور عقلمندوں کے نزدیک قابل سرزنش ہوگا۔ خدا کی کتاب اور خدا کے رسول جو دنیا میں آتے ہیں بڑی غرض اُن کی یہی ہوتی ہے جو دنیا کو پاپ اور گناہ کی زندگی سے چھڑا ویں اور خدا سے پاک تعلقات قائم کریں اُن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ دُنیا کے علوم اُن کو سکھاویں اور دُنیا کی ایجادوں سے اُن کو آگاہ کریں۔
غرض ایک عقلمند اور منصف مزاج آدمی کے نزدیک اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ خدا کی کتاب کا فرض یہی ہے کہ وہ خدا کو ملاوے اور خدا کی ہستی کے بارہ میں یقین کے درجہ تک پہنچا وے اورخدا کی عظمت اور ہیبت دل میں بٹھا کر گناہ کے ارتکاب سے روک دے ورنہ ہم ایسی کتاب کو کیا کریں جو نہ دل کا گند دور کرسکتی ہے اور نہ ایسی پاک اور کامل معرفت بخش سکتی ہے جو گناہ سے نفرت کرنے کا موجب ہوسکے۔ یاد رہے کہ گناہ کی رغبت کا جذام نہایت خطرناک جذام ہے اور یہ جذام کسی طر ح دور ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ خدا کی زندہ معرفت کی تجلیات اور اُس کی ہیبت اورعظمت اور قدرت کے نشان بارش کی طرح وارد نہ ہوں اور جب تک کہ انسان خدا کو اُس کی مہیب طاقتوں کے ساتھ ایسا نزدیک نہ دیکھے جیسے وہ بکری کہ جب شیر کو دیکھتی ہے کہ صرف وہ اُس سے دو قدم کے فاصلہ پر ہے انسان کو یہ ضرورت ہے کہؔ وہ گناہ کے مہلک جذبات سے پاک ہو اور اس قدر خدا کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ جائے کہ وہ بے اختیار کرنے والی نفسانی شہوات کی خواہش کہ جو بجلی کی طرح اس پر گرتی اور اس کے تقویٰ کے سرمایہ کو ایک دم میں جلا دیتی ہے وہ دور ہو جاوے مگر کیا