الہامی کتابوں کی غرض اصلی کے بیان میں اور یہ کہ سب سے اَکْمَل قرآن شریف ہے یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز کی بڑی خوبی یہی سمجھی جائے گی کہ جس غرض کے پورا کرنے کے لئے وہ وضع کی گئی ہے اُس غرض کو بوجہ احسن پوری کرسکے مثلاً اگر کسی بیل کو قلبہ رانی کے لئے خریدا گیا ہے تو اُس بیل کی یہی خوبی دیکھی جائے گی کہ وہ بیل قلبہ رانی کے کام کو بوجہ احسن ادا کرسکے اسی طرح ظاہرہے کہ اصلی غرض آسمانی کتاب کی یہی ہونی چاہئے کہ اپنے پیروی کرنے والے کو اپنی تعلیم اور تاثیر اور قوت اصلاح اور اپنی رُوحانی خاصیت سے ہر ایک گناہ اور گندی زندگی سے چھڑا کر ایک پاک زندگی عطا فرماوے اور پھر پاک کرنے کے بعدخدا کی شناخت کے لئے ایک کامل بصیرت عطا کرے اور اُس ذات بے مثل کے ساتھ جو تمام خوشیوں کا سرچشمہ ہے محبت اور عشق کا تعلق بخشے کیونکہ درحقیقت یہی محبت نجات کی جڑھ ہے اور یہی وہ بہشت ہے جس میں داخل ہونے کے بعد تمام کوفت اور تلخی اور رنج و عذاب دُور ہو جاتا ہے اور بلاشبہ زندہ اور کامل کتاب الہامی وہی ہے جو طالب خدا کو اِس مقصود تک پہنچا وے اور اُس کو سفلی زندگی سے نجات دے کر اس محبوب حقیقی سے ملاوے جس کا وصال عین نجات ہے اور تمام شکوک و شبہات سے مَخلصی بخش کر ایسی کامل معرفت اس کو عطا کرے کہ گویا وہ اپنے خدا کو دیکھ ؔ لے اور خدا کے ساتھ ایسے مستحکم تعلقات اُس کو بخش دے کہ وہ خدا کا وفادار بندہ بن جائے اور خدا اُس پر ایسا لطف و احسان کرے کہ اپنی انواع و اقسام کی نصرت اور مدد اور حمایت سے اُس میں اور اُس کے غیر میں فرق کرکے دکھلا ئے اور اپنی معرفت کے دروازے اُس پر کھول دے اور اگرکوئی کتاب