مکذّب ہوں۔ پس اے ایشور ہم دونوں میں سچا فیصلہ کر یعنی وہ جو جھوٹا ہے اُس کو جھوٹ کی سزا دے۔ پس خدا ئے عادل نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس کو میری زندگی میں ہی بُری طر ح ہلاک کردیا۔ مگر اس فیصلہ سے آریہ قوم نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ جھوٹ اور سچ کے پرکھنے کے لئے یہی نشان کا فی تھا اگر آریہ مذہب سچا تھا تو یہ کیا بلا نازل ہوئی جو خدا نے جھوٹے کے حق میں فیصلہ کردیا۔ اس جگہ صرف پیشگوئی نہیں تھی بلکہ باہمی مباہلہ بھی تھا اور پانچ برس سے لوگوں کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں کہ کس کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے آخر ۶ مار چ ۱۸۹۷ ؁ء کے مبارک دن میں قریباً دن کے ۴بجے کے وقت خدا نے یہ فیصلہ سنا دیا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے یہ خدا کی گواہی ہے۔ وہ دل *** ہے جو خدا کی گواہی سے بھی تسلی نہیں پکڑتا۔ اب ہم مضمون پڑھنے والے کے تمام اعتراضات کا جواب دے چکے ہیں اور ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا ہاں وید پر ایسے اعترؔ اضات وارد ہوتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ وید گمراہ کرنے والی کتاب ہے اور جن لوگوں نے بنام نہاد الہام کے ایسی کتاب آریہ ورت کو دی ہے وہ لوگ ہرگز منجانب اللہ نہیں ہوسکتے بعد اس کے ہم اور چند مقاصد لکھیں گے چنانچہ منجملہ اُن کے ایک مقصد مندرجہ ذیل ہے۔