تمام حصہ کو شرک سے پاک نہ کردیا۔ وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے کیونکہ اُس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے اور اس کی سچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو۔ کون صدقِ دل سے ہمارے پاس آیا جس نے اُس نور کا مشاہدہ نہ کیا اور کس نے صحت نیت سے اس دروازہ کو کھٹکھٹا یا جو اُس کے لئے کھولا نہ گیا لیکن افسوس ! کہ اکثر انسانوں کی یہی عادت ہے کہ وہ سفلی زندگی کو پسند کر لیتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ نور اُن کے اندر داخل ہو۔ ایسا ہی اس سفلہ پن کی عادت نے بعض آریوں کوکھالیا ہے وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیوں میں مکر اور فریب سے کام لیا مگر وہ اپنے تعصب کی وجہ سے نہیں جانتے کہ جب دشمن لڑائی کے وقت میں مکر اور فریب استعمال میں لاتا ہے تو مکر کے ساتھ ہی اس کاجواب دینا کیوں حرام ہے۔ مکر اور فریب بجائے خود کوئی بُری چیز نہیں ہے بلکہ اس کی بد استعمالی بُری ہے جو امر صحت نیت سے سچائی کی مدد میں اور مظلوموں کی امداد کی غرض سےؔ کیاجاتاہے وہ گناہ میں داخل نہیں ہے۔ خداشریر مکار کو مکر کے ذریعہ سے ہی سزا دیتا ہے اور خدا ہمیشہ راستباز آدمی کا حامی ہوتا ہے اور خبیث اور چنڈال آدمی کو آخر وہ پکڑتا ہے اسی طرح وہ اپنے پاک نبیوں کی مدد کرتا آیا ہے۔ چنانچہ آریوں کو بھی اُس نے اپنی اس مدد کے نمونے دکھائے ہیں اورہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اُن کو دکھلا دیا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کا دشمن ہے منجملہ اُن نشانوں کے لیکھرام کی موت بھی ایک بڑا نمونہ ہے۔ یہ شخص محض ایک نادان تھا جس نے خواہ نخواہ خدا کے پاک نبی کو گالیاں دینا اپنا شیوہ اختیار کرلیا تھا میں نے بہت سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا اور مجھ سے اُس نے نشان مانگا تب خدا نے اُس کے چھ۶سال کے اندر قتل کئے جانے کا اُس کو بطور پیشگوئی نشان دیا۔ اُس نے میرے ساتھ مباہلہ بھی کیااور اپنی کتاب خبط احمدیہ میں دانت پیس پیس کر یہ دعا مانگی کہ ایک طرف یہ شخص ہے جو قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے اور ایک طرف میں ہوں جو وید کو سچا جانتا ہوں اور قرآن کا