حال دیکھ کر رونا آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر تو کیوں روتا ہے۔ حضرت عمر نے عرض کی کہ آپ کی تکالیف کو دیکھ کر مجھے رونا آگیا۔ قیصر اور کسریٰ جو کافر ہیں آرام کی زندگی بسر کر رہے اور آپ ان تکالیف میں بسر کرتے ہیں۔ تب آنجناب نے فرمایا کہ مجھے اِس دُنیا سے کیاکام ! میری مثال اُس سوار کی ہے کہ جو شدّت گرمی کے وقت ایک اونٹنی پر جارہا ہے اور جب دوپہر کی شدت نے اُس کو سخت تکلیف دی تووہ اسی سواری کی حالت میں دم لینے کے لئے ایک درخت کے سایہ کے نیچے ٹھہر گیا اور پھر چند منٹ کے بعد اُسی گرمی میں اپنی راہ لی۔ اور آپ کی بیویاں بھی بجز حضرت عائشہ کے سب سن رسیدہ تھیں بعض کی عمر ساٹھ۶۰ برس تک پہنچ چکی تھی۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کا تعدّد ازواج سے یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں مقاصد دین شائع کئے جائیں اور اپنی صحبت میں رکھ کر علم دین اُن کو سکھایا جائے تا وہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے ہدایت دے سکیں۔ یہ آپ ہی کی سنت مسلمانوں میں ؔ اب تک جاری ہے کہ کسی عزیز کی موت کے وقت کہا جاتا ہے3 ۱ یعنی ہم خدا کے ہیں اورخدا کا مال ہیں اور اُسی کی طرف ہمارارجوع ہے۔ سب سے پہلے یہ صدق و وفا کے کلمے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے پھر دوسروں کے لئے اس نمونہ پر چلنے کا حکم ہوگیا۔ اگر آنجناب بیویاں نہ کرتے اور لڑکے پیدا نہ ہوتے تو ہمیں کیونکر معلوم ہوتا کہ آپ خدا کی راہ میں اس قدر فداشدہ ہیں کہ اولاد کو خدا کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے۔
اب تم مقابلہ کرو کہ ایک طرف تووہ آریہ ہیں کہ جو اولاد حاصل کرنے کے لالچ سے اپنی بیویوں سے نیوگ کراتے ہیں جو سراسر حرامکاری ہے او رایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ہر ایک فرزند عزیزکے مرنے پر یہ کہتے ہیں کہ مجھے کسی سے تعلق نہیں مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔ پس یہ پوشیدہ تعلق بجز ان امتحانوں کے کیونکر ثابت ہوسکتا تھا ؟ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے