کامل تعلق تبھی ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر بہت سے تعلقات میں وہ گرفتار ہو۔ بیویاں ہوں اولاد ہو تجارت ہو زراعت ہو اور کئی قسم کے اُس پر بوجھ پڑے ہوئے ہوں اور پھر وہ ایسا ہو کہ گویاخدا کے سوا کسی کے ساتھ بھی اُس کا تعلق نہیں یہی کامل انسانوں کے علامات ہیں۔ اگر ایک شخص ایک بن میں بیٹھا ہے نہ اُس کی کوئی جورو ہے نہ اولاد ہے نہ دوست ہیں اور نہ کوئی بوجھ کسی قسم کے تعلق کا اُس کے دامن گیر ہے توہم کیونکر سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے تمام اہل و عیال اور ملکیت اور مال پر خدا کو مقدم کرلیاہے اور بے امتحان ہم اُس کے کیونکر قائل ہوسکتے ہیں اگر ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں نہ کرتے توہمیں کیونکر سمجھ آسکتا کہ خدا کی راہ میں جاں فشانی کے موقع پر آپ ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی مگر آپ نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لاکر صدہا امتحانوں کے موقعہ پر یہ ثابت کردیا کہ آپ کو جسمانی لذات سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجردانہ زندگی ہے کہ ؔ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی۔ تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیار۱۱ہ لڑکے پیداہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اورخدا کی طرف جاؤں گا۔ ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو لخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدّم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دُنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کی اُنگلی پر تلوار لگی اورخون جاری ہوگیا۔ تب آپ نے اپنی انگلی کو مخاطب کرکے کہا کہ اے انگلی تو کیاچیزہے صرف ایک انگلی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہوگئی۔
ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں تب عمرؓ کو یہ