3 ۱ یعنی اے نبی لوگوں کو کہدے کہ میں صرف خدا کا پرستار ہوں دوسری کسی چیز سے میرا تعلق نہیں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا صرف اس خدا کے لئے ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔دیکھو اس آیت میں کیسی ماسوی اللہ سے بے تعلقی ظاہر کی گئی ہے
چناں زندگی کن کہ با صد عیال
نداری بدل غیر آن ذوالجلال
افسوس ! ہمارے مخالفوں کو انہی باتوں نے ہلاک کیا ہے کہ وہ خوبیوں پر نظر نہیں ڈالتے اور ہر ایک امرجو اُن کو اپنی نادانی سے سمجھ نہیں آتا اُس کو اعتراض کی صورت میں پیش کرتے ہیں وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ انسان کن اعمال سے خدا کا پیارا بن جاتا ہے۔ کیا خدا تک پہنچنے کے لئے یہی راہ ہے کہ کوئی شخص بیوی نہ کرے اگر یہی بات ہے تو یہ نسخہ بہت سہل ہے اور اس سے لازم آتا ہے کہ جن کو بیوی میسّر نہیں آتی یا ان امور پر قادر نہیں ہوسکتے وہ سب خدا کے ولی اور دوست سمجھے جائیں۔ نہیں بلکہ وہ راہ بہت دُور ہے اورؔ وہ مقام اُنہیں کو میسّر آتا ہے جوخداکی راہ میں کھوئے جاتے ہیں اور صدق اور وفا کے مرحلہ کو اس منزل تک طے کرلیتے ہیں جو سچ مچ اور درحقیقت خدا کے لئے اپنے وجود سے مرہی جاتے ہیں۔ اُن کوخدا سے کوئی چیز نہیں روکتی نہ وہ بیویاں جو اُن کی پیاری اور عزیز ہوتی ہیں اور نہ وہ اولاد جو اُن کے جگر گو شہ کہلاتے ہیں۔ عجیب قسم کے یہ پاک دل لوگ ہیں جو باوجود ہزارہا تعلقات کے پھر بھی کسی سے تعلق نہیں رکھتے۔ وہ ایسے ماسوی اللہ سے بے تعلق ہوتے ہیں کہ اگر اُن کی ہزارہا بیوی ہو اور ہزار لڑکا ہو پھر بھی ہم قسم کھاکرکہہ سکتے ہیں کہ اُن کی ایک بھی بیوی نہیں اور نہ اُن کا کوئی لڑکا ہے اُن کو یہ اندھی دُنیا نہیں جانتی کہ وہ کس مقام پر ہیں اور کون اُن کوجانتا ہے مگر وہی جس نے اُن کو یہ پاک فطرت عطا کی ہے یا وہ جس کو اُس کی طرف سے آنکھیں دی جائیں۔ دُنیا میں کروڑہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کانام ہے محمّد صلّی اللّٰہ علیہ وآلِہٖ وسلم۔