اس ؔ کا جود و احسان ہے کسی حق کے ادا کرنے کے لئے نہیں۔
واضح ہوکہ وہ تعلیم جو وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے بڑی بھاری غلطی اُس کی یہی ہے کہ پرمیشر کو صرف ایک منصف تصوّر کرکے مخلوقات کے حقوق کا اُس کے سر پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور دوسری طرف خواہ نخواہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ مخلوقات بھی اپنے حق سے زیادہ کسی عطا اور جود کی مستحق نہیں ہے۔ یہ ہے وید ودّیا جس پر آریوں کو بڑا ناز ہے۔ ایک قدیم زمانہ وید کا جو اس کی طرف منسوب کیاجاتا ہے اگر فرض بھی کرلیں کہ وہ اتنا لمبا زمانہ ہے جیساکہ آریوں نے بغیرکسی قطعی دلیل کے خیال کیا ہے تب بھی وید بموجب نمونہ پیش کردہ آریوں کے ایک ایسے لمبے او ر اُونچے پہاڑ سے مشابہ ہوگا جس میں سے کوئی قسم جواہرات کی کبھی نہیں نکلی اور بہت کھودنے کے بعد آخر نکلا تو ایک چوہا نکلا۔
افسوس اگر وید خدا تعالیٰ کو درحقیقت ارواح کاخالق تسلیم کرتا تو یہ غلطی کبھی واقع نہ ہوتی کیونکہ اس صورت میں واقعی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ پرمیشر رُوحوں کا مالک ہے اور جب کہ مالک ہے تو اُس کے مقابل پر کسی کودعویٰ نہیں پہنچتا کہ اُس سے اپنے کسی حق کا مطالبہ کرے کیونکہ پیدا کردہ پیدا کنندہ کی ایک ملکیت ہے اور درحقیقت مکتی کے مسئلہ میں یعنی نجات کے بارہ میں جو کچھ آریوں نے غلطیاں کھائی ہیں وہ بھی اِسی بنا پر ہیں۔ مثلاً وہ دائمی نجات کے قائل نہیں ہیں اور ان کو سخت مجبوری کی وجہ سے ماننا پڑتا ہے کہ ایک مُدّت مقررہ کے بعد پرمیشر اپنے بندوں کو گوویدوں کے رشی ہی کیوں نہ ہوں مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے۔اور ناکردہ گناہ طرح طرح کی جونوں میں ڈال دیتا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پرمیشر اس مجبوری سے کہ ایک مُدّت کے بعد رُوحوں کو مکتی خانہ سے باہر نکالنا ضروری ہے بہانہ جوئی کے طو رپر ایک ذرہ گناہ اُن کا باقی رکھ لیتا ہے اور وہی الزام