اگر کہو کہ یہ اعتدال کے برخلاف ہے تو یہ خیال باطل ہے کیونکہ جب کہ خدا نے ایک کو مرد بنایا اور زیادہ بچہ پیدا کرانے کا اُس میں مادہ رکھا اور عورت کی نسبت اس کو بہت زبردست قوتیں دیں تو اس صورت میں اعتدال کو تو خدا نے اپنے ہاتھ سے توڑ دیا۔ جن کو خدا نے برابر نہیں کیا وہ کیونکر برابر ہو جائیں اُن کو برابر سمجھنا صریح حماقت ہے۔ ماسوا اِس کے ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ تعدّد ازدواج میں کسی عورت پر ظلم نہیں۔ مثلاً اگر کسی شخص کی پہلی بیوی موجود ہے تو اب دوسری عورت جو اُس سے شادی کرناچاہتی ہے وہ کیوں ایسے شخص سے شادی کرتی ہے جو پہلے بھی ایک بیوی رکھتا ہے ظاہر ہے کہ وہ تو تبھی شادی کرے گی کہ جب تعدّد ازدواج پر راضی ہو جائے گی۔ پھر جب میاں بیوی راضی ہوگئے تو پھر دوسرے کواعتراض کا حق نہیں پہنچتا جب حق دار نے اپنا حق چھوڑ دیا تو پھر دوسرے کااعتراض محض جھک مارنا ہے اور اگر پہلی بیوی ہے تو وہ خوب جانتی ہے کہ اسلا م میں دوسری بیوؔ ی کرسکتے ہیں تو وہ کیوں نکاح کے وقت میں یہ شرط نہیں کرالیتی کہ اُس کا خاوند دوسری بیوی نہ کرے اس صورت میں وہ بھی اپنی خاموشی سے اپنا حق چھوڑتی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ کثرت ازواج خدا کے تعلق کی کچھ حارج نہیں اگر کسی کی دس ہزار بیوی بھی ہو تو اگر اُس کا خدا سے پاک اور مستحکم تعلق ہے تو
دس ہزار بیوی سے اُن کا کچھ بھی حرج نہیں بلکہ اِس سے اُس کا کمال ثابت ہوتا ہے کہ ان تمام تعلقات کے ساتھ وہ ایساہے کہ گویا اُس کو کسی کے ساتھ بھی تعلق نہیں۔ اگر ایک گھوڑا بوجھ کی حالت میں کچھ چل نہیں سکتا مگر بغیر سواری اور بوجھ خوب چال نکالتا ہے تووہ گھوڑا کس کام کا ہے؟ اسی طرح بہادر وہی لوگ ہیں جو تعلقات کے ساتھ ایسے ہیں کہ گویا بے تعلق ہیں۔ پاک آدمیوں کی شہوات کو ناپاکوں کی شہوات پر قیاس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ناپاک لوگ شہوات کے اسیر ہوتے ہیں مگر پاکوں میں خدا اپنی حکمت اور مصلحت سے آپ شہوات پیدا کر دیتا ہے اور صرف صورت کا اشتراک ہے جیسا کہ مثلاً قیدی بھی جیل خانہ میں رہتے ہیں اور داروغہ جیل بھی۔ مگر دونوں کی حالت میں فرق ہے۔ دراصل ایک انسان کا خدا سے