سکتا تو اسی طرح اُن پر بھی کچھ اعتراض نہیں ہوسکتا*۔ غرض خداکے نبیوں اور رسولوں کی نسبت کسی کو جائز نہیں اور نہ کسی کاحق ہے کہ وہ محض اپنی محدود عقل کی رُو سے فیصلہ کرے کہ وہ پاک ہیں یا پلید ہیں بلکہ جس کے قرب اور تعلق کے وہ مدعی ہیں اور جس کے فرستادہ وہ اپنے تئیں خیال کرتے ہیں اُسی کا یہ حق ہے کہ اگروہ درحقیقت اُسی کی طرف سے ہیں تو اپنی خاص تائیدوں اور خاص فضلوں اورخاص نصرتوں سے دنیا پر یہ ظاہر کردے کہ وہ اُس کے برگزیدہ بندے ہیں اور جب خدا کی زبردست نصرتوں اور فوق العادت نشانوں سے اُن کا برگزیدہ ہونا ثابت ہو جائے تو پھر سراسر خباثت اور بے ایمانی اور کمینگی ہوگی کہ ادنیٰ ادنیٰ نکتہ چینیوں سے اُن کی عزت اور مرتبہ پر حملہ کیا جائے کمینہ آدمی جیسا کہ اپنے اندر کمینگی رکھتاہے ایساہی اس کے اعتراض بھی کمینگی پر مبنی ہوتے ہیں اس کو خبر نہیں ہوتی کہ کس حالت اور کن تعلقات کے ساتھ کوئی شخص خدا کا برگزیدہ بن جاتا ہے کمینہ طبع آدمی کے ہاتھ میں صرف بدظنی کے طور پر چند اعتراض ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ فلاں شخص کیونکر خدا کا نبی ہوسکتا ہے کیونکہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتا ہے أ مگر وہ نادان نہیں جانتا کہ اس میں کیا حرج ہے بلکہ کثرتِ ازدواج کثرتِ اولاد کا موجب ہے جو ایک برکت ہے۔ اگر ایک عورت کا سوخاوند ہو تو اُس کا سو لڑکا پیدا نہیں ہوسکتا لیکن اگر سو۱۰۰عورت کاایک خاوند ہو تو سو لڑکا پیدا ہونا کچھ بعید نہیں ہے پس جس طریق سے انسان کی نسل پھیلتی ہے اور خدا کے بندوں کی تعداد بڑہتی ہے اس طریق کوکیوں بُرا کہا جاوے؟ أحاشیہ ۔ جیسا کہ عرب کے کفار کا ایک یہ اعتراض خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا ہے کہ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِىْ فِىْ الْاَسْوَاقِؕ ۱؂ یعنی یہ تو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک روٹی کھانا یا عمدہ کھانا استعمال کرنا شانِ نبوت کے بَرخلاف تھا اور نیز یہ اعتراض تھا کہ نبی گوشہ گزین ہونا چاہیئے نہ یہ کہ بازاروں میں بھی پھرے ۔ منہ