بزرگ سمجھا جائے۔ وہ خاص طور پر کوئی رنگ دار کپڑہ نہیں پہنتے کوئی مالا اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے اور کوئی ایسی خاص وضع نہیں بناتے جس سے یہ مقصود ہوکہ لوگ اُن کو بزرگ سمجھیں اور نہ اُن کو اس بات کی کچھ پروا ہوتی ہے کہ لوگ اُن کو خدا رسیدہ خیال کریں بلکہ وہ دُنیا کے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی تصور نہیں کرتے۔ خدا کی محبت اُن کے دلوں پر ایساکام کرتی ہے کہ اُن کے دل خدا کی عظمت قبول کرنے کے بعد کسی کی پروا نہیں رکھتے۔ سب پر رحم کرتے ہیں مگر اس طور پر کسی کی عظمت نہیں مانتے کہ بعد خدا کے وہ بھی کچھ چیز ہے اوروہ نہیں چاہتے کہ اپنے تئیں لوگوں پر ظاہر کریں اور اپنی اندرونی پاکیزگی لوگوں کو دکھاویں۔ بلکہ وہ انگشت نما ہونے سے کراہت کرتے ہیں اُن کی فطرت ہی ایسی واقع ہوتی ہے کہ وہ شہرت سے ہزار کوس دُور بھاگتے ہیں اور گمنام رہناؔ چاہتے ہیں مگر وہ خدا جو اُن کے دلوں کو دیکھتاہے اور اُن کو اس کام کے لئے لائق سمجھتا ہے کہ وہ اپنے گوشوں اور حجروں سے باہر نکلیں اور خدا کے بندوں کو سیدہی راہ کی دعوت کریں وہ جبراً اُن کو خلوت سے جلوت کی طرف لے آتا ہے اور زمین پر اپنے قائم مقام بناکر اُن کے ذریعہ سے دلوں کو سچائی کی طرف
کھینچتا ہے اور اُن کے لئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے او ردُنیا پر اُن کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اُن کی تائید میں وہ قدرت کے نمونے ظاہر کرتا ہے کہ آخر ہر ایک عقلمند کو ماننا پڑتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہیں اور چونکہ وہ زمین پر خدا کے قائم مقام ہوتے ہیں اس لئے ہر ایک مناسب وقت پر خدا کی صفات اُن سے ظاہر ہوتی ہیں اور کوئی امر اُن سے ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ خدا کی صفات کے برخلاف ہو بیشک یہ سچ بات ہے کہ جیسا کہ خدا حلیم و کریم ہے ایسا ہی حلم و کرم اُن سے بھی ظاہر ہوتاہے اور جیسا کہ خدا قہّار اور منتقم ہے ایسا ہی جس وقت زمین پاپ اور گنہ سے بھر جاتی ہے تو خدا اُن کے ذریعہ سے بھی زمین والوں کو سزا دیتاہے اور ہر ایک نرمی او رسختی جو خدا خود بخود کرتارہتاہے اُن کے ذریعہ سے بھی کرتا ہے کیونکہ وہ زمین پر خدا کے جانشین کی طرح ہوتے ہیں پس اگر ایسے کاموں سے خدا پر اعتراض نہیں ہو