پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض پیش کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوتر نہیں تھی یعنی پاک نہیں تھی اور حیلہ اور مکر اور فریب سے عار نہ تھی۔ اور حیوانی خواہشات کی طرف بہت مائل تھے۔ ہم قبل اس کے جو اس بہتان کا جواب دیں اس قدر کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ یہ شخص بدزبانی میں لیکھرام سے بھی کچھ بڑھاہوا معلوم ہوتا ہے جس نے ہماری جماعت کے معزز آدمیوں کو جو چار ۴۰۰سو کے قریب تھے اپنی بدزبانی سے دُکھ دیا۔ یہ دراصل تمام آریوں کی شرارت ہے جنہوں نے مکر اور فریب کی راہ سے یہ دعویٰ کرکے کہ تہذیب سے مضمون سنائے جائیں گے پھر اپنے اقرار کے مخالف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس شخص کے مُنہ سے وہ گالیاں دلوائیں جن کے تصور سے بدن کانپتا ہے۔ سادہ طبع مسلمان ان منافق آریوں کے دھوکہ میں آکر اسؔ جلسہ میں حاضر ہوئے اور اس سفر میں ہزارہا روپیہ کا خرچ اُٹھایا اور پھر ہر ایک نے فی کس چا۴؍ر آنہ کے حساب سے جلسہ میں داخل ہونے کے لئے آریوں کو فیس دی آخر کار ایسی سخت گالیاں سن کر آئے کہ اگر کوئی وحشی قوم ہوتی تو اس جگہ خون کی ندیاں بہ جاتیں۔ اس سے بڑھ کر اور کونسی گالی ہوگی؟ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ناپاک زندگی قرار دیا اور نعوذ باللہ آپ کو مکّار اور فریبی اور نفسانی شہوات ۔۔۔ کی طرف مائل ٹھہرایا۔ اب مذکورہ بالا اعتراض کاجواب یہ ہے کہ پوتر یعنی پاک ہونا یا ناپاک ہونا یہ ایک پوشیدہ امر ہے اور بجز خدا کی گواہی کے کسی کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ پاک ہے کیونکہ کسی انسان کے اندرونی حالات کا بجز خدا کے کسی شخص کو علم نہیں۔ وہ خدا کا ہی علم ہے جو پاک اور پلید میں فرق کرکے دکھلاتا ہے۔ بہت لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں کہ بڑی بڑی لمبی مالا اُن کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور سر سے پاؤں تک بھگوے کپڑے ہوتے ہیں اور کسی تالاب پر آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہتے ہیں مگر اول درجہ کے بدمعاش اور خبیث اور چنڈال ہوتے ہیں لیکن خدا کے نبیوں کی زندگی سادہ ہوتی ہے وہ اس نیت سے کوئی کام نہیں کرتے کہ ان کو