اسرار ظاہر کرتا ہے اور عمیق اور پوشیدہ باتوں کی خبر دیتا ہے اُس نے ان دونوں قوتوں کو مخلوق قرار دیا ہے جونیکی کا القاء کرتاہے اُس کا نام فرشتہ اوررُوح القدس رکھا ہے اور جو بدی کا القاء کرتاہے اُس کا نام شیطان اور ابلیس قرار دیا ہے مگر قدیم عقلمندوں اور فلاسفروں نے مان لیا ہے* کہؔ القاء کا مسئلہ بیہودہ اور لغو نہیں ہے۔ بے شک انسان کے دل میں دو قسم کے القاء ہوتے ہیں۔ نیکی کاالقاء اور بدی کا القاء۔ اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں القاء انسان کی پیدائش کا جزو نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ باہم متضاد ہیں اور نیز انسان اُن پر اختیار نہیں رکھتا اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں القاء باہر سے آتے ہیں اور انسان کی تکمیل اُن پر موقوف ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے وجود یعنی فرشتہ اور شیطان کو ہندوؤں کی کتابیں بھی مانتی ہیں اور گبر بھی اس کے قائل ہیں بلکہ جس قدر خدا کی طرف سے دُنیا میں کتابیں آئی ہیں سب میں ان دونوں وجودوں کا اقرار ہے۔ پھر اعتراض کرنا محض جہالت اور تعصب ہے اور جواب میں اس قدر لکھنا بھی ضروری ہے کہ جو شخص بدی اور شرارت سے باز نہیں آتا وہ خود شیطان بن جاتا ہے جیسا کہ ایک جگہ خدا نے فرمایا ہے کہ انسان بھی شیطان بن جایا کرتے ہیں۔ اور یہ کہ خدا اُن کو کیوں سزا نہیں دیتا اس کا جواب یہی ہے کہ شیطانوں کو سزا دینے کے لئے قرآن شریف میں وعدہ کا دن مقرر ہے پس اس وعدہ کے دن کے منتظر رہنا چاہئے کئی شیطان خدا کے ہاتھ سے سزا پا چکے اور کئی پائیں گے۔ *حاشیہ ۔ یہ دونوں قوتیں جو ہر ایک انسان میں موجود ہیں خواہ تم ان کو یا دو قوتیں کہو اور یا روح القدس اور شیطان نام رکھو مگر بہرحال تم ان دونوں حالتوں کے وجود سے انکار نہیں کرسکتے اور ان کے پیدا کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا انسان اپنے نیک اعمال سے اجر پانے کا مستحق ٹھہر سکے کیونکہ اگر انسان کی فطرت ایسی واقع ہوتی کہ وہ بہرحال نیک کام کرنے کے لئے مجبور ہوتا اور بد کام کرنے سے طبعاً متنفر ہوتا تو پھر اس حالت میں نیک کام کا ایک ذرہ بھی اس کو ثواب نہ ہوتا کیونکہ وہ اس کی فطرت کا خاصہ ہوتا ۔ لیکن اس حالت میں کہ اس کی فطرت دو کششوں کے درمیان ہے اور وہ نیکی کی کشش کی اطاعت کرتا ہے اس کو اس عمل کا ثواب مل جاتا ہے ۔ منہ