غرض جب کہ خدا تعالیٰ نے عورت کا نام کھیتی رکھا تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اسی واسطے اُس کا نام کھیتی رکھا کہ اولاد پیدا ہونے کی جگہ اُس کو قرار دیا اور نکاح کے اغراض میں سے ایک یہ بھی غرض رکھی کہ تااس نکاح سے خدا کے بندے پیدا ہوں جو اُس کو یاد کریں۔ دوسری غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بھی قرار دی ہے کہ تا مرد اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے خاوند کے ذریعہ سے بدنظری اور بدعملی سے محفوظ رہے۔ تیسری غرض یہ بھی قرار دی ہے کہ تا باہم اُنس ہوکر تنہائی کے رنج سے محفوظ رہیں۔ یہ سب آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں ہم کہاں تک کتاب کو طول دیتے جائیں۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ خدا نے شیطان کو کیوں بنایا اُس کو سزا کیوں نہ دی ؟ اِس کاجواب یہ ہے کہ یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ ہر ایک انسان کے لئے دو جاذب موجود ہیں یعنی کھینچنے والے۔ ایک جاذبِ خیر ہے جو نیکی کی طرف اُس کو کھینچتا ہے۔ دوسرا جاذبِ شر ہے جو بدی کی طرف کھینچتا ہے جیسا کہ یہ امر مشہودو محسوس ہے کہ بسا اوقات انسان کے دل میں بدی کے خیالات پڑتے ہیں اور اُس وقت وہ ایسا بدی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا اُس کو کوئی بدی کی طرف کھینچ رہا ہے اور پھر بعض اوقات نیکی کے خیالات اس کے دل میں پڑتے ہیں اور اُس وقت وہ ایسا نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا کوئی اُس کو نیکی کی طرف کھینچ رہا ہے اور بسا اوقات ایک شخص بدی کرکے پھر نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نہایت شرمندہ ہوتا ہے کہ میں نے بُراکام کیوں کیا اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی کو گالیاں دیتا او رمارتا ہے اور پھر نادم ہوتا ہے او ردل میں کہتا ہے کہ یہ کام میں نے بہت ہی بیجا کیا اور اُس سے کوئی نیک سلوک کرتا ہے یا معافی چاہتا ہے سو یہ دونوں قسم کی قوتیں ہر ایک انسان میں پائی جاتی ہیں اور شریعت اسلام نے نیکی کی قوت کا نام لمّہء ملک رکھا ہے اور بدی کی قوت کو ۔۔۔ لمّہء شیطان سے موسوم کیا ہے۔ فلسفی لوگ تو صرف اس حد تک ہی قائل ہیں کہ یہ دونوں قوتیں ہر ایک انسان میں ضرور موجود ہیں مگر خدا جو وراء الوراء