اُن کو مرادیں عطا کرتے ہیں جس کو اس بارے میں شک ہو وہ رگوید کی شُرتیاں غور سے پڑھے افسوس ! جن لوگوں کا وید بجائے خدا تعالیٰ کے سورج چاند کو خدا قرار دیتا ہے اُن کو ایسی باتوں سے کچھ ؔ حیا کرنی چاہئے تھی کہ وہ ایسی کتاب پر حملہ کریں جو سورج اور چاند کو خدا نہیں بناتی بلکہ خدا کی پیدائش قرار دیتی ہے۔ قرآن شریف میں ایک شاہزادی بِلْقِیس نام کا ایک عجیب قصہ لکھا ہے جو سورج کی پوجا کرتی تھی شاید وید کی پیرو تھی۔ حضرت سلیمان نے اُس کو بلایا اور اُس کے آنے سے پہلے ایسامحل طیّار کیا جس کا فرش شیشہ کا تھا اور شیشہ کے نیچے پانی بہ رہاتھا جب بلقیس نے حضرت سلیمان کے پاس جانے کا قصد کیا تو اُس نے اُس شیشہ کو پانی سمجھا اور اپنا پاجامہ پنڈلی سے اُوپر اٹھا لیا۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ دھوکا مت کھا یہ پانی نہیں ہے بلکہ یہ شیشہ ہے پانی اس کے نیچے ہے۔ تب وہ عقلمند عورت سمجھ گئی کہ اس پیرایہ میں میرے مذہب کی غلطی انہوں نے ظاہر کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ سورج اور چاند اوردوسرے روشن اجرام شیشہ کی مانند ہیں اور ایک پوشیدہ طاقت ہے جو ان کے پردہ کے نیچے کام کر رہی ہے اور وہی خدا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اس جگہ فرمایا 3 ۱ * سودُنیا کو خدا نے شیش محل سے مثال دی ہے جاہل ان شیشوں کی پرستش کرتے ہیں اور دانا اس پوشیدہ طاقت کے پرستار ہیں مگر وید نے اس شیش محل کی طرف کچھ اشارہ نہیں کیا اور ان ظاہری شیشوں کو پرمیشور سمجھ لیا اور پوشیدہ طاقت سے بے خبر رہا۔
اور پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 33 3۲ یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور قسم ہے چاند کی جب سورج کی پیرو ی کرے یعنی چاند بغیر پیروی کے کچھ بھی چیز نہیں اور اس کا نور سورج کے نور سے مستفاض ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان گو کیسا ہی اپنے اندر استعداد رکھتا ہے مگر جب تک وہ کامل طور پر خدا کی اطاعت نہ کرے اُس کو کوئی نور نہیں ملتا۔ مگر افسوس !
* یعنی یہ ایک محل ہے شیشوں سے بنایا گیا ۔ منہ