ہو یا وہ مرد دراصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اُس کے گھر میں آباد رہنا ناگوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اُس کے کسی ولی کو چاہئے کہ حاکم وقتؔ کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہوگا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کردے اور نکاح کو توڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلانا ضروری ہوگا کہ کیوں نہ اُس کی عورت کو اُس سے علیحدہ کیا جائے۔
اب دیکھو کہ یہ کس قدر انصاف کی بات ہے کہ جیسا کہ اسلام نے یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی عورت بغیر ولی کے جو اُس کا باپ یا بھائی یا اور کوئی عزیز ہوخود بخود اپنانکاح کسی سے کرلے ایسا ہی یہ بھی پسند نہیں کیا کہ عورت خود بخود مرد کی طرح اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائے بلکہ جدا ہونے کی حالت میں نکاح سے بھی زیادہ احتیاط کی ہے کہ حاکم وقت کا ذریعہ بھی فرض قرار دیا ہے تا عورت اپنے نقصان عقل کی وجہ سے اپنے تئیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔ مگر وید میں یہ منصفانہ طریق کہاں ہے؟ میں اس معترض کی حالت سے نہایت تعجب میں ہوں کہ کس قدر یہ شخص سچائی کادشمن ہے جس سے بمجبوری ہمیں کچھ وید کا حال بیان کرنا پڑتا ہے اگر یہ شخص ایسا بیہودہ اور لغو اعتراض نہ کرتا تو ہمیں کیا ضرورت تھی کہ ہم وید کا ذکر کرتے ؟ ان لوگوں کی عجیب حالت ہے کہ اپنے وید کی خرابیوں پر کچھ بھی اطلاع نہیں رکھتے اور چاند پرتھوک رہے ہیں۔ افسوس !!!
پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآنی تعلیم سورج اورچاند کی ماہیت سے بے علم ہے۔ اس بات کا جواب بجز اس کے کیا کہا جائے کہ اس بارے میں قرآنی تعلیم کو وید کی تعلیم کے ساتھ مقابلہ کرکے دیکھنا چاہئے۔ قرآن شریف نے سورج اورچاند کو خدا کی مخلوق ٹھہرایا ہے مگر وید ان دونوں کو خدا قرار دیتا ہے اور اُن کی پرستش کاحکم کرتا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ گویا وہ دونوں خدا تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور قادر ہیں اور ہرایک جو اُن کی پوجا کرے