کہ وید کو یہ بھی خبر نہیں کہ چاند اپنی روشنی سورج سے لیتا ہے اور اِسی وجہ سے اُس نے برابر طور پر دونوں سورج اور چاند کو معبود ٹھہرایا ہے۔
پھر عجیب تر یہ بات ہے کہ معترض تو تعصب کی دیوانگی کی وجہ سے سورج چاند تک پہنچ گیا ہے جو آسمانی اجرام ہیں مگر اس کے وید نے توزمین کی چیزوں میں بھی غلطی کھائی ہے اوروہ رُوح جس سے جاندار انسان زندہ ہوتے ہیں اُس کی کیفیت صحیح طورپر بیان نہیں کرسکا پس اس معترض پر تو یہ شعر صادق آتا ہے
تو کار ز میں را نکو ساختی ؟
کہ باآسمان نیز پرداختی
کیا یہ وید کی فلاسفی درست ہے کہ رُوحیں مع اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے انادی اور غیر مخلوق ہیں
اور وہی باربار دُنیا میں آتی ہیں اور کیا یہ بات عقل سلیم کے نزدیک سچ ٹھہر سکتی ہے کہ رُوح انسان کے مرنے کے وقت اکاش میں چلی جاتی ہے اور پھر رات کے وقت کسی گھاس پات پر گرتی ہے اور وہ گھاس پات کوئی مرد کھاتا ہے تو نطفہ کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اس سے لازم آتا ہے کہ رُوح دو ٹکڑے ہوکرگرتی ہو ایک ٹکڑا ایسی گھاس پر گرتا ہو جس کو مرد کھاتا ہو اور دوسرا ٹکڑا ایسی گھاس پات پر پڑتا ہو جس کو عورت کھاتی ہو۔ کیونکہ پیدا ہونے والے بچہ میں رُوحانی اخلاق صرف مرد کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ عورت کی طرف سے بھی ہوتے ہیں۔ ماسوا اِس کے وہ گھاس پات کچا تو نہیں کھایا جاتا بلکہ بخوبی آگ پر پکایاجاتا ہے اِس صورت میں ظاہرہے کہ جوکچھ شبنم کی طرح گھاس پات پر پڑا تھا وہ آگ سے جل جاتا ہوگا اور اگر کیڑا تھا تو وہ مر جاتا ہوگا۔
اور پھر ماسوا اس کے جو گوشت کھانے والی قومیں ہیں جو صرف مچھلی یا مثلاً بکرا یا بھیڈ کا گوشت کھاتے ہیں کیا وہ رُوح جو شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے وہ بکرے یا بھیڈ کی کھال پر پڑتی ہے۔ پس جس وید کی یہ فلاسفی ہے جو قدم قدم پر ٹھوکرکھاتاہے اُس کے ساتھ فخر کرنا ایک بھارے نادان کا کام ہے۔