وہ اؔ نعام اکرام جو بنام نہاد پاداش اعمال حسنہ انسان کو عطا ہوتا ہے۔ پس جس خدا نے اپنی فیاضانہ مالکیت کا وہ نمونہ دِکھلایا کہ عاجز بندوں کے لئے زمین و آسمان اور چاند سورج وغیرہ بنا دئیے اُس وقت میں جبکہ بندوں اور اُن کے اعمال کا نام و نشان نہ تھا کیااُس کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ بندوں کا مدیون ہوکر صرف اُن کے حقوق ادا کرتا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ؟ کیا بندوں کا کوئی حق تھا کہ وہ اُن کے لئے زمین وآسمان بناتا اور ہزاروں چمکتے ہوئے اجرام آسمان پر اور ہزارہا آرام او رراحت کی چیزیں زمین پر مہیا کرتا۔ پس اس فیاض مطلق کو محض ایک جج کی طرح فقط انصاف کرنے والا قرار دینا اور اس کے مالکانہ مرتبہ او ر شان سے انکار کرنا کس قدر کفرانِ نعمت ہے۔ اور اگر کہو کہ ہم اُس کو مالک سمجھتے ہیں تو اِس کا یہی جواب ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم ہرگز اُس کو مالک نہیں سمجھتے۔ یہ صرف دکھانے کے دانت ہیں جو تم دکھلا رہے ہو۔ مالک اُسی کو کہتے ہیں کہ دونوں پہلوؤں سزا اور درگذر اور عطا اور ترک عطا پر قادر ہو۔ پس کہاں تم اپنے پرمیشر کو ایسا سمجھتے ہو۔ بلکہ بقول تمہارے پرمیشران دونوں پہلوؤں پر ہرگز قادر نہیں اور اس کی مخلوق اس سے اپنے حقوق کا ایسا ہی مطالبہ کرسکتی ہے جیسا کہ ایک قرض خواہ اپنے قرضدار سے۔ اور وہ کسی کا گناہ نہیں بخش سکتا اور جب تم نے اس کانام بمقابلہ مخلوقات کے منصف رکھا تو بتلاؤ کہ منصف کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے یا نہیں؟ کہ وہ لوگوں کے حقوق اپنے ذِمّہ تسلیم کرے اور ہر ایک فردبشر اپنے حق واجب کا اُس سے مطالبہ کرسکے اور پھر اگر حقوق کو ادا نہ کرے تو ظالم کہلاوے۔ اور ظاہر ہے کہ جب یہ تسلیم کیا گیا کہ پرمیشر کو اپنے بندوں کے مقابل پر منصف سے بڑھ کر اور کوئی حیثیت نہیں تو پھر پرمیشر مخلوقات کامالک نہ ٹھہرا کیونکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ بیان کرچکے ہیں مالک کے مقابل پر مملوک کا کوئی حق نہیں ہوتا لیکن ابھی ہم بیان کرچکے ہیں کہ خدا کا مالک ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ جو کچھ اُس نے ہزارہا قسم کی نعمتیں انسان کو دی ہیں یہاں تک کہ زمین کی چیزیں اور آسمان کے روشن اجرام اس کے لئے بنائے ہیں یہ تمام