تو اس کے اثر سے اس چیز میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اگر محض یہی بات ہوتی کہ اُس ہوا کے کیڑے اس کھانے کے اندر داخل ہوجاتے ہیں تو کوئی کھانا کیڑوں سے بچ نہ سکتا۔ ایک طرف ہم ایک کھانا تیار کرکے اپنے سامنے رکھتے ۔۔۔ اور ایک طرف فی الفور ہزارہا کیڑے بلا توقف اُس میں پڑ جاتے کیونکہ جب کیڑے پہلے سے ہوا میں موجود ہیں اور کھانا بھی کھلا پڑا ہے تو پھر توقف کی کوئی وجہ نہیں اور اگر کہو کہ اول حالت میں باریک ہوتے ہیں تو پھر تم خوردبین کے ذریعہ سے ہمیں دکھلاؤ کہ اس تازہ کھانے میں کہاں کیڑے ہیں۔ غرض یہ بھی سائنس والوں کی ایک موٹی غلطی ہے وہ لوگ خداکے اسرار کامعما کھولنا چاہتے ہیں آخر منہ کے بل گرتے ہیں*۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض قرآن شریف پر پیش کیا کہ خاوند کی مرضی پر طلاق رکھی ہے اس سے شاید اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ عقل کی رُو سے مرد اور عورت درجہ میں برابر ہیں تو پھر اس صورت میں طلاق کا اختیار محض مرد کے ہاتھ میں رکھنا بلاشبہ قابل اعتراض ہوگا۔ پس اس اعتراض کا یہی جواب ہے کہ مرد اورعورت درجہ میں ہرگز برابر نہیں۔ دنیا کے قدیم تجربہ نے یہی ثابت کیا ہے کہ مرد اپنی جسمانی اور علمی طاقتوں میں *حاشیہ ۔ یاد رہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید نے ہر ایک جانور کو خواہ وہ کیڑا ہے یا اور جاندار انسان قرار دیا ہے یعنی یہ تعلیم دی ہے کہ وہ دراصل انسانی روح ہے جو کسی اور جون میں واپس آئی ہے مگر وید نے جو واپس آنے کا طریق بیان کیا ہے وہ ایسا بیہودہ اور خلاف عقل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وید کے بنانے والے علم اور عقل سے محض بے نصیب تھے اس بات کا بارِ ثبوت وید کے ذمہ تھا کہ وہ روح جو بدن سے نکل گئی تھی وہ کیونکر اور کس طریق سے واپس آتی ہے اور کیونکر انسانی نطفہ سے اس کاپیوند ہو جاتاہے اور یہ خیال کہ وہ روح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر گرتی ہے اس سے زیادہ اور کوئی خیال بیوقوفی کا نہیں ہو گا کیونکہ نطفہ صرف گھاس پات نہیں بلکہ صدہا مختلف طریقوں سے طیار ہوتا ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں ۔ ایک دال کی طرف دیکھو جو اکثر آریوں کی غذا ہے اول وہ آگ پر گداز کی جاتی ہے اور کیڑے مرجاتے ہیں اور اگر باسی ہوجائے تو ہزار ہا کیڑے اس میں پڑ جاتے ہیں ۔ تو کیا یہ خیال ہوسکتا ہے کہ وہ کیڑے بھی شبنم سے ہی غذا میں داخل ہوتے ہیں اور وہ سب انسان ہیں ۔ منہ