عورتوں سے بڑھ کر ہیں اور شاذ و نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے پس جب مرد کا درجہ باعتبار اپنے ظاہری اور باطنی قوتوں کے عورت سے بڑھ کر ہےؔ تو پھر یہی قرین انصاف ہے کہ مرد اور عورت کے علیحدہ ہونے کی حالت میں عنانِ اختیار مرد کے ہاتھ میں ہی رکھی جائے مگر تعجب ہے کہ یہ اعتراض ایک آریہ نے کیوں پیش کیا؟ کیونکہ آریوں کے اصول کی رُو سے تو مرد کادرجہ عورت سے اس قدر بڑھ کر ہے کہ بغیر لڑکا پیدا ہونے کے نجات ہی نہیں ہوسکتی۔ اِسی بنا پر ایک آریہ کی عورت باوجود موجود ہونے خاوند کے دوسرے مرد سے منہ کالا کراتی ہے تا کسی طرح لڑکا پیدا ہو جائے۔ پس ظاہرہے کہ اگر اُن کے نزدیک مرد اور عورت کا درجہ برابر ہوتا تو اس رسوائی اور فضیحت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ لیکن یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ اگر ایک آریہ کی چالیس۴۰ لڑکیاں بھی ہوں یا فرض کرو کہ ۱۰۰سو لڑکی ہو تب بھی وہ اپنی نجات کے لئے فرزند نرینہ کا خواہشمند ہوتا ہے اور اُس کے مذہب کی رُو سے ۱۰۰سو لڑکیاں بھی ایک لڑکے کے برابر نہیں ہوسکتیں۔ پس اس سے ثابت ہے کہ آریہ مذہب کی رُو سے جس قدر لڑکے کو یعنی فرزند نرینہ کو دُختر پر ترجیح دی گئی ہے وہ اس قدر ترجیح ہے کہ دختر کو اپنی قدر و منزلت میں فرزند نرینہ کاسوا۱۰۰ں حصہ بھی قرار نہیں دیا گیا ورنہ یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر مذہب کی رُو سے لڑکی اور لڑکا ایک درجہ پر سمجھے جاتے تو پھر لڑکا ہونے کے لئے یہ بے غیرتی کیوں روا رکھی جاتی کہ اپنی منکوحہ عورت جس کے لئے غیرت مند لوگ مرنے مارنے پر طیار ہو جاتے ہیں وہ دوسروں سے ہمبستر کرائی جاتی ؟ اور کیوں اس قدر لڑکا پیدا ہونے کے لئے حرص بڑھائی جاتی کہ یہ روا رکھا جاتا کہ گو اُس بدقسمت عورت کو تمام دُنیا کے مردوں سے ہمبستر کرایا جائے مگر لڑکا ضرور پیدا ہونا چاہئے۔ ماسوا اس کے منوشا ستر کو پڑھ کر دیکھ لو کہ اس میں بھی صاف لکھا ہے کہ اگر عورت مرد کی دشمن ہوجائے یا زہر دیناچاہے یا اور کوئی ایسا سبب ہو تو مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اور عملی طور پر تمام شریف ہندوؤں کا یہی طریق ہے کہ اگرعورت کو بدکار اور بدچلن پاویں