اس میں کیڑے ہوتے ہیں اسی وجہ سے ایسے پہاڑوں پر سِل کی بیماری والوں کو فائدہ ہوتا ہے اور اس سے اُوپر کے طبقہ کی ہوا ایسی ہوتی ہے جو بالکل کیڑوں سے خالی ہوتی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ جو ہوا سطح زمین کے نزدیک ہے خاص کر جب وہ آفتاب کی حرارت سے پورا حصہ نہیں لیتی یا برف کی شدید سردی سے متاثر نہیں ہوتی وہی ہوا کیڑوں سے پُر ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی بساطت پر باقی نہیں رہتی۔ پس اس سے ثابت ہے کہ دراصل ہوامیں کوئی کیڑا نہیں ہے بلکہ جب ایک عارضی غلاظت اوررطوبت اُس سے مل جاتی ہے تو اس سے وہ کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اورچونکہ یہ ہوا تمام چیزوں پر محیط ہے اس لئے یہ گندی ہوا جب دوسری چیزوں پر اثر کرے گی تو اُن میں بھی کیڑے پیدا ہو جائیں گے اور عجیب تر یہ ہے کہ اگر مثلاً ایک جگہ پچاس سنگترہ یا اور قسم کے میوے دیر تک رکھے رہیں تو بعض پھل تو بگڑ جاتے ہیں اور بعض مدت تک نہیں بگڑتے حالانکہ وہ ایک ہی ہوا کے اثر کے ماتحت ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ جس قدر ہوا لطیف ہوگی اُسی قدر کیڑے کم پیدا ہوں گے۔ اس سے ثابت ہے کہ کیڑے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو گندی ہوا کی تاثیر سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت اورحکمت سے محض کسی سرسبز پتے یا سرسبز پھل سے پیدا ہوتے ہیں جیسے گولر کا پردار کیڑا یا آک کا جانور جو ملخ کے برابر ہوتا ہے اور جیسے نطفہ کا کیڑا اور جیسے وہ کیڑے جوزمین کے نہایت ہی عمیق طبقوں میں پائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ کیڑے ہیں جو گندی ہوا سے پیدا ہوتے ہیں اور ایسی ہوا جب کسی ایسی غذا پر اپنا اثر کرتی ہے جس میں کیڑے پیدا ہوسکتے ہیں تو اس ہوا کے اثر سے ہزارہا کیڑے اس غذا میں پیدا ہوجاتے ہیں پس یہ سائینس والوں کی غلطی ہے کہ وہ ہرایک پیدا ہونے والے کیڑے کو گندی ہوا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب یہ بات بھی بحث طلب ہے کہ وہ کیڑے جو دال وغیرہ چیزوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ کہا ں سے پیدا ہوتے ہیں؟ پس اصل بات تو یہ ہے کہ جب وہ گندی ہوا جس میں کیڑے پیدا ہوچکے ہیں کسی کھانے والی یا کسی دوسری چیز پر اثر کرتی ہے